پشاور:‌ داعش نے افغان طالبان رہنما کو قتل کردیا

پشاور: شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک افغان طالبان رہنما کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

صحافی طاہر خان کے مطابق افغان طالبان نے تصدیق کی ہے کہ ان کے ایک مرکزی رہنما مولوی داؤد کو پشاور کے قریب قتل کر دیا گیا ہے۔

افغان طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ مولوی داؤد کی گاڑی پر پشاور کے قریب پندو روڈ پر جمعرات کی رات کو فائرنگ کی گئی جس سے وہ اور اس کا ڈرائیور موقع پر ہلاک ہوگئے اور ایک اور شخص زخمی ہوا۔

ایک طالبان اہلکار کا کہنا ہے کہ مولوی داؤد گروپ کے اہم راہنماؤں میں سے تھے اور افغان میڈیا ماضی میں مولوی داؤد کو پشاور شوریٰ کا رکن بھی بتاتا رہا ہے۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی گئی تاہم ان کی جانب سے ہلاک کیے گئے افغان طالبان رہنما کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

دولت اسلامیہ

واضح رہے کہ جمعے کو افغانستان میں طالبان نے موسمِ بہار کی کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے حملوں میں غیرملکی افواج اور ان کے حامیوں کو نشانہ بنائیں گے۔

افغان طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ چند روز قبل اسی مقام پر مولوی داؤد کے ایک اور قریبی ساتھی کو نامعلوم افراد نے قتل کیا تھا۔

مولوی داود افغان طالبان کے پہلے راہنما نہیں جو پاکستان میں قتل ہوئے ہیں۔ گذشتہ سال مشرقی صوبے ننگرہار کے لیے طالبان کے نامزد گورنرمولوی میر احمد گل ہاشمی اور سنہ 2015 میں سابق طالبان وزیر مولوی عبدالرقیب بھی پشاور میں قتل کر دیے گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: