کراچی :سابق میئر کراچی وسیم اختر نے الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت پر برس پڑے۔کراچی میں میڈیا سےگفتگو میں وسیم اختر نے کہا ہماری بات بھی کو سنا جائے, جس طرح الیکشن کرایا گیا یہ ای سی پی پر دھبہ ہے، دنیا بلدیاتی انتخابات کا مذاق اڑا رہی ہے، بیلٹ باکس باہر پڑے تھے، ٹھپے لگ رہے تھے۔
ان کا کہنا تھاکہ الیکشن کمیشن اور پیپلز پارٹی نے مل کر جیری مینڈرنگ کی ہے، میں پوچھتا ہوں آپ پورے ملک میں 2023 میں ہونے والے الیکشن کیسے کراؤ گے؟ اگر الیکشن کمیشن اتنا ہی قانون کا پابند تھا تو 2020 میں الیکشن ہونا چاہیے تھا، ڈسٹرکٹ کونسل میں بھی 25 یوسیز کا اضافہ کرکے جیری مینڈرنگ کی گئی, غلط حلقہ بندیوں کی وجہ سے پیپلز پارٹی نے 93 سیٹیں لیں، 52 یوسیز ٹھیک کرنے کےلیے حلقہ بندیوں پر پیپلز پارٹی نے اتفاق کیا تھا۔
وسیم اختر نے کہا کہ پیپلز پارٹی حیدرآباد اور کراچی میں جعلی ووٹوں کے ذریعے قابض ہونا چاہتی ہے، افسوس ہے کہ پی پی پرانی ریت پر ہی رہی, 75 یوسیز غلط بنائی گئیں، جن میں آبادی کا تناسب درست نہیں تھا، آپ نے کراچی اور حیدرآباد کی پیٹھ پر چھرا گھونپا, آپ سمجھتے ہو کہ اس طرح آپ نے کراچی حیدرآباد کو فتح کر لیا، آپ غلطی پر ہیں ان دونوں شہروں نے آپ کو کبھی ووٹ نہیں دیا۔
وسیم اختر نے کہا کہ 2015 کے الیکشن میں ایم کیو ایم کا 11 لاکھ کا مینڈیٹ تھا، پیپلز پارٹی کا 1 لاکھ اور پی ٹی آئی کا بھی 1 لاکھ مینڈیٹ تھا, اتنی دھاندلی کے بعد بھی پیپلز پارٹی کو ڈھائی لاکھ ووٹ پڑا ہے، جماعت اسلامی کو 3 لاکھ اور پی ٹی آئی کو ڈیڑھ لاکھ ووٹ پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم دوبارہ اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے، اس انتخابات میں الیکشن کمیشن مکمل ناکام ہوا ہے، ہم الیکشن کمیشن پر سوالیہ نشان چھوڑ رہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ اس بلدیاتی انتخابات کراچی اور حیدرآباد کا سوموٹو ایکشن لے۔
