کراچی: کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے معاملات پر سیاسی جماعتوں میں کشدیدگی بڑھ گئی ۔ جماعت اسلامی ، تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے کارکن آمنے آگئے۔ مختلف مقامات پر سراپا احتجاج ہیں، ملیراور کیماڑی میں ڈی آراو دفترپر احتجاج اوردھرنے کے دوران جماعت اسلامی اورتحریک انصاف کے حامی اورمخالف جماعتوں کے کارکنان گتھم گتھا ہوگئے،ہاتھاپائی،تصادم اورڈنڈے چل جانے سے علی زیدی سمیت کئی کارکنان زخمی ہوگئے۔
علی زیدی پرحملے کے خلاف تحریک انصاف نے کراچی کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا اورقیوم آباد پردھرنادے کرٹریفک معطل کردیا۔کراچی کے ضلع کیماڑی میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر کے دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی کے دوران پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں میں تصادم ہوگیا۔
دونوں جماعتوں کے کارکنان کی جانب سے ایک دوسرے پرپتھراؤ کیا اور ہاتھا پائی ہوئی ،مشتعل کارکنان ایک دوسرے پرڈنڈوں لاٹھیوں سے حملہ آورہوئے۔پی ٹی آئی کی جانب سے ضلع کیماڑی کے ڈی آر او دفتر کے باہر احتجاج کے دوران پیپلز پارٹی کے کارکنان بھی موجود تھے، دونوں جماعتوں کے کارکنان نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی جس کے بعد پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کارکنان نے ایک دوسرے پر پتھراؤ شروع کردیا،اس دوران پی ٹی آئی رہنما علی زیدی بلال غفار،سعید آفریدی دیگرڈی آراوآفس میں محبوس ہوگئے۔
ڈی آر او آفس کے باہر تصادم کوبڑھنے سے روکنے کے لیےپولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کرکے مشتعل افراد کومنتشرکردیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ضلع کیماڑی پولیس نے بھاری نفری کے ہمراہ بروقت موقع پر پہنچ کر صورت حال کو کنٹرول کیا،ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے واٹر کینن اور دیگر ساز و سامان کے ہمراہ پولیس نفری موجود ہے۔
دوسری جانب انتخابی نتائج مبینہ طورپرتبدیل کرنے کے خلاف ڈسٹرکٹ ملیر ڈی آر او آفس پر جماعت اسلامی کی جانب سے دھرنا دیا گیا۔جماعت اسلامی کا دھرنا جاری تھا کہ بعض نامعلوم افراد نے دھرنے کے شرکا پرہلہ بول دیا۔جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ پر امن احتجاج کرنے والے ہمارے کارکنوں پر فائرنگ کی گئی اورپتھراؤ کیا گیا،فائرنگ کرنے والے شخص کو پکڑ لیا گیا لیکن پولیس نے اسے محفوظ طریقے سے موبائل میں بٹھا کر محفوظ مقام پر پہنچادیا۔
ایس ایس پی ملیرعرفان بہادرکا کہنا ہے کہ ڈی آراوآفس کے باہرکشیدہ صورتحال کو فوری کنڑول کرلیا گیا،جماعت اسلامی اور پی پی کارکنان آمنے سامنے تھےجس کے باعث صورتحال کشیدہ ہوئی پولیس نے کارروائی کے بعد دونوں جماعتوں کے کارکنان کو منشتر کردیا ہے۔ترجمان جماعت اسلامی نے ڈسٹرکٹ ملیر ڈی آر او آفس پر جماعت اسلامی کے پُر امن کارکنوں پر پولیس کے بلا جواز لاٹھی چارج کو قابل مذمت قراردیتے ہوئے کہاکہ پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت دھاندلی کو تحفظ دینے کے لیے بد معاشی پر اُتر آئی ہے،جماعت اسلامی کے پُر امن کارکنوں پر پولیس کی سرپرستی میں پیپلز پارٹی کے مسلح لوگوں نے حملہ کیا،پولیس حملہ آور وں کو روکنے کے بجائے پُر امن کارکنوں پر ٹوٹ پڑی۔
کیماڑی میں پی ٹی آئی رہنماؤں اورکارکنان پرپیپلزپارٹی کے حملہ کے خلاف کراچی میں مختلف مقامات پرملیرہالٹ،قیوم آباد کورنگی میں احتجاج کیا گیا،تحریک انصاف کی جانب سے قیوم آباد چورنگی پردھرنا دیا گیا ،دھرنے میں کارکنان و امیدواروں کے ہمراہ راجہ اظہر، فہیم خان، گوہر خٹک موجود تھے ان کا کہنا تھا کہ یہ دھرنا الیکشن کمیشن کے خلاف ہے۔
گلشن حدید یوسی 4 کے نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کے خلاف جماعت اسلامی نے امیر جماعت اسلامی ضلع ملیر کی قیادت میں ملیر ہالٹ پر دھرنا دے دیا جس کے باعث ٹریفک معطل ہوگئی ۔ بلدیاتی انتخابات میں نتائج کی تاخیر اور مبینہ دھاندلی کے خلاف جماعت اسلامی کے کارکنان نے یونیورسٹی روڈ پر احتجاج کیا اورمظاہرین نے یونیورسٹی روڈ بلاک کرکے مبینہ دھاندلی کے خلاف نعرے بازی شروع کردی ہے۔
