ٍٍٍٍٍٍفلم میں اسکرپٹ اہم، مگر ہم یہ سمجھتے نہیں، انور مقصور

پاکستان کے نامور مصنف انور مقصود کا کہنا ہے کہ ملک میں بہترین فلم ساز موجود ہیں، تاہم ان کے لیے یہ بات سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ کسی بھی فلم کی سب سے اہم چیز اس کا بہترین اسکرپٹ ہے۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اے آر وائے فلم فیسٹیول سے متعلق ایک پریس کانفرنس کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا، ’ہم اس ڈپارٹمنٹ میں پیچھے ہیں، فلم سازوں کو اپنے اسکرپٹ پر بھی زیادہ محنت کرنی چاہیئے‘۔

انور مقصود اے آر وائے فیسٹیول کی جیوری کا حصہ بھی ہیں، انہوں نے بتایا کہ فیسٹیول کے لیے انتخاب کی گئیں چند فلموں پر انہوں نے غور کیا اور یہ اتنا بہترین انتخاب تھا کہ اس کے لیے فیسٹیول کے ہدایت کار شہزاد خان کو سراہا جانا چاہیئے۔

انہوں نے کہا ’جہاں فلمیں بہت اچھی ہیں، وہیں مجھے مسئلہ اسکرپٹ سے ہے، ہمارے ملک کے فلم ساز اسکرپٹ پر کام نہیں کرتے، وہ بس یہ چاہتے ہیں کہ فلمیں بن جائیں، اسکرپٹ کسی بھی فلم کی بیک بون جیسی ہے، اگر فلم میں اچھے اداکار نہ بھی ہوں، تو اچھا اسکرپٹ فلم کو سنبھال لیتا ہے‘۔

انور مقصود نے بتایا کہ وہ فیسٹیول میں نمائش کے لیے منتخب کردہ 33 فلموں میں سے 22 دیکھ چکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ شوبز میں آنے والے نئے نوجوان کافی اچھا کام کررہے ہیں۔

پروگرام کو منعقد کرنے والے اداکار فیصل قریشی نے کہا کہ منتظمین کو 400 فلموں کی انٹری موصول ہوئی، ان میں سے 80 انٹرنیشنل فلمیں تھیں، جن میں سے 33 کو منتخب کیا گیا۔

جیوری میں انور مقصود، شرمین عبید چنائے، میریلن ایگریلو، اینڈی مرکن، جوناتھن گان، جیک میکڈونلڈ، رام کشور پراچہ اور آمنہ خان شامل ہیں۔

ایونٹ میں موجود اداکار ہمایوں سعید کا کہنا تھا کہ جب وہ اس فیلڈ میں آئے تھے تو اداکار بننا چاہتے تھے، اس دوران فلمیں کم بنتی تھیں، انہوں نے ’انتہا‘ نامی فلم میں کام کیا، اب شائقین سینما میں زیادہ آتے ہیں اور اس قسم کے فیسٹیولز نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے میں مدد دیتے ہیں۔

اے آر وائے فلم فیسٹیول کا آغاز 4 مئی سے کیا جاچکا ہے جو 6 تک ایک مقامی ہوٹل میں جاری رہے گا۔

 بشکریہ ڈان نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں: