کراچی: اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافے کا اعلان کردیا۔
پریس کانفرنس میں مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ شرح سود 16 سے بڑھا کر 17 فیصد کر دی گئی ہے اور شرح سود بڑھانے کا فیصلہ مالیاتی امور دیکھ کر کیا گیا ہے۔
نومبرو دسمبر میں مہنگائی میں کچھ کمی ہوئی لیکن پورے سال شرح بڑھتی رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل پریشر نظر آرہا ہے، بین الاقوامی تبدیلیوں کے اثرات ملکی سطح پر دیکھے جارہے ہیں۔گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ مہنگائی بڑھنے پر ترسیلات پر پریشر آتا ہے اور اس میں کمی دیکھی جارہی ہے، مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر دباؤ برقرار رہا تو مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں بھی چیلنجز کا سامنا ہے، امپورٹ سائیڈ پر بھی پریشر ہے، ملک میں تجارتی خسارہ 3 اعشاریہ 7 ارب ڈالرز ہے، ری پے منٹس کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آئی ہے، ایکسٹرنل سیکٹرکو مد نظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ کو بڑھانا ناگزیر تھا۔
انہوں نے کہاکہ جی ڈی پی گروتھ 2 فیصد سے بھی کم رہ سکتی ہے،مہنگائی کا زور ہے ، قیمتوں میں استحکام ضروری ہے، ہم اپنے ٹارگٹ کے مطابق چل رہے ہیں۔جمیل احمد نے کہا کہ ترسیلات زر میں کمی آئی ہے، افواہوں کی وجہ سے بھی ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا، منی بجٹ کے سوال کا جواب وزارت خزانہ دے گی۔
