الطاف حسین نے مہاجروں‌کو یقین دلایا کہ پاکستان تمھارا وطن ہے، تحریر احمد اشفاق

اجی سنتے ہیں ، وہ بانو آپا نے چھوٹی کے لئے ایک رشتہ بتایا ہے ، لڑکا بینک میں ہے ، امّاں یہیں پیدا ہوئیں ہیں ، اور ان کے ابّا شائد پٹنہ سے ہیں ، آپ کہیں تو اس اتوار کا کہہ دوں ؟؟

نہیں ، یہ بہاری بہت تیز ہوتے ہیں ، ان سے کہو کوئی یو پی کی فیملی بتائیں ———————————————————————————————

قیصر صاحب ، غالباً آپ کے گھر نئے کرایے دار آئے ہیں، کوئی حوالہ ہے یا یونہی مکان دے دیا ؟

ارے نہیں ، ایک دوست کے جاننے والے ہیں ، حیدرآباد دکن کے لوگ ہیں ، شریف سی اردو سپیکنگ فیملی ہے —

دکن کے اردو سپیکر ؟؟ کیوں مذاق کر رہے ہیں قیصر بھائی، شرافت تو آپ کو کچھ دن میں پتا چلے گی، جتنے پکوان تیز اتنی ہی زبان تیز ، اور اردو تو بولنا جانتے ہی نہیں ، نہ درست تراکیب کا استعمال نہ سہی الفاظ کی ادائیگی ، اور لہجہ ایسا کہ اردو خود افسوس کرے — یہ مہاجر ضرور ہیں مگر اردو سپیکنگ نہیں —————————————————————————————————–

یہ کل شب جعفری صاحب کے گھر مجلس کون پڑھ رہا تھا ؟؟؟

ان کے عزیز ہیں، لکھنؤ کے سادات ہیں ، کمال کی مجلس پڑھتے ہیں —

ایک تو یہ ہر دوسرا آدمی سادات بنا پھرتا ہے اور وہ بھی لکھنؤ کا ، میاں لکھنو سے کوئی 400 کلومیٹر دور کسی چھوٹے سے گاؤں میں رہتے ہوں گے، اور بنے پھرتے ہیں لکھنؤ والے —- لکھنؤ کے لوگ تو شکل سے پہچانے جاتے ہیں ، ہمارے باوا نے 70 برس لکھنو میں جوتیاں گھسی ہیں—

—————————————————————————————————–

یہ صرف چند مثالیں ہیں ، ایک ہی ملک کے مختلف علاقوں سے آئے مہاجرین کی اور اس سوچ کی جو ہمارے اندر کسی نا کسی زاویے سے موجود ہے — یہ علاقائی تفریق مٹانا آسان نہیں ہے، یہ کسی نا کسی طرح آج بھی موجود ہے —

بنگالی چوںکہ اردو نہیں بولتا لہٰذا ہجرت کرنے کے باوجود بنگالی ہی رہا اور آج بھی یہاں رہ جانے والے بنگالی ہیں مہاجر نہیں— پنجاب اور سندھ میں بس جانے والے لاکھ یقین دلائیں کہ وہ مہاجر ہیں لیکن کیوں کہ اب ان کی زبان میں ایک سندھی پن اور پنجابیت چھلکتی ہے تو آپ انھیں دوسرے درجے کا مہاجر یا پہلے درجے کا سندھی/پنجابی سمجھتے ہیں —

یوسفزئی احباب کو پٹھان پختون تسلیم نہیں کرتے ، کچھ مہاجر انھیں مہاجر بھی نہیں مانتے — میمن اپنی جدا شناخت رکھتے ہیں — یو پی والے اردو پر اپنی حاکمیت تصور کرتے ہیں ، ادب آداب ، رسم و رواج ، زبان و بیان کے واحد علمبردار بنتے ہیں — سی پی والوں کی زبان سے کچھ مخصوص الفاظ ایک خاص انداز میں ادا ہوتے ہیں تو ان پر ہنسا جاتا ہے — راجپوت رن گڑھ کہلانے کے بجائے رانگڑ کہلاتے ہیں — ایک اچھے خاصے لفظ کو ایک عامیانہ لفظ بنا دیا گیا ہے — بہاری کے بارے میں یہ مثال آپ نے کئی بار سنی ہوگی کہ جو نہ کٹے آری سے وہ کٹے بہاری سے — حیدرآباد دکن والوں کا لب و لہجہ نہایت میٹھا اور مزیدار ہے، مگر بسا اوقات وہ بھی مذاق کا نشانہ بنتے ہیں —- ہندوستان سے آئے ہر قریشی کو قصائی سمجھنا فرض ہے ، اور ہر وہ آدمی جو دہلی کا نام لے کر پکوان بیچ رہا ہے اسے فراڈیا ہی سمجھا جائے گا، کہا جائے گا کہ دہلی کی شکل تک نہ دیکھی ہوگی بنے پھرتے ہیں دہلی والے —

ہمیں ماننا ہوگا کہ اپنوں کے بیچ یہ فرق ہم نے برسوں روا رکھا ہے، دوسروں کا ہمارے ساتھ برتا جانے والا تعصب اپنی جگہ لیکن ہم اپنے آپ میں بھی راست باز نہیں ، کچھ لکیریں ہم نے بھی کھینچ رکھی ہیں– ہم نے مہاجر کو ہجرت سے نہیں اردو سے پہچانا ہے — اور یہی وجہ ہے کہ کل اگر مہاجروں کو صوبہ یا انتظام مل بھی جائے تو کوئی بعید نہیں کہ ہم وہاں بھی علاقائی بنیادوں پر اپنی ترجیحات مرتب کریں کوئی ضمانت نہیں کہ وہاں بھی ہم سے غلطیاں سرزد ہو جائیں —

یہ درست ہے کہ ہندوستان کے تمام مہاجر اپنے علاقوں کے حساب سے اپنی انفرادی تہذیب رکھتے تھے ، اور یہ ہر بڑے ملک میں ہوتا ہے ، لیکن پاکستان آنے کے بعد اگر انہیں پاکستانی سمجھا جاتا ، اور وہی ان کی شناخت ہوتی تو آج یہ اسی ثقافت میں رنگ چکے ہوتے، انہیں اپنا کہا جاتا تو یہ بھی خود کو اپنوں میں گردانتے– انہیں کوئی اپنا تلاش کرنے میں تین دہائیاں لگ گیئں ، اور تب جا کر انھیں ایک سیاسی پلیٹ فارم ملا ، ایک ایسی فکر ملی جس نے ان کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے ان کے حق میں فیصلے کیے اور انھیں ایک کرنے کی جستجو کی— ایک مضبوط آواز ملی ایک ایسی آواز جس نے انھیں یقین دلایا کہ :

ہم تو اخلاق ہو محبت سے نہ باز آئیں گے

اس طرف جہل و تعصب کے مظاہر ہی سہی

ہم تو اپنے کو سمجھتے ہیں مقامی لیکن

وہ سمجھتے ہیں مہاجر تو مہاجر ہی سہی —

مہاجروں کے اوپر یہ الطاف حسین کا احسان ہی ہے کہ اس نے انہیں تقسیم نہ ہونے دیا (جو بہت آسان تھا)—- کیا یہ الطاف حسین کا کمال نہیں ہے کہ اس نے تمام ہجرت کرنے والوں کو ایک چھتری تلے جمع کر دیا ؟ لوگوں کو مجبور کر دیا کہ اپنی جداگانہ شناخت اپنے گھر میں رکھو ، ایم کیو ایم کے جھنڈے تلے ، یو پی ، سی پی ، بہاری ، بنگالی نہیں صرف مہاجر بن کر جمع ہو جاؤ — اور پھر متحدہ کی صورت اس چھتری کو بڑھاوا دیا کہ اس کی چھاؤں تلے تمام قومیت کے لوگ متحد ہو جائیں —- یہ الطاف حسین ہی تھا جس نے اردو کو نہیں ہجرت کو مہاجر کی پہچان بتائی اور مہاجروں کو یقین دلایا کہ یہ تمہارا وطن ہے ، تم نے یہیں رہنا ہے اور ظالم کا ہاتھ روکنا ہے —

یہ باتیں آپ بھول گئے ہوں ، لیکن مہاجر قوم نہیں بھول سکتی ، اگر آج چار مختلف جماعتوں میں بٹی ہوئی مہاجر قوم کا سیاسی اتحاد ہوتا ہے تو اس سے بہتر عمل کوئی نہیں ، لیکن مہاجر قوم کا اتحاد الطاف حسین کی حمایت ، تائید اور رضامندی کے بغیر ہونا اتنا ہی نا ممکن ہے جتنا الطاف حسین کی حمایت کے بغیر کسی اور کا الیکشن جیت جانا !

اپنا تبصرہ بھیجیں: