کراچی :سندھ ہائیکورٹ میں توہین الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کی درخواست کی سماعت ہوئی۔
جس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے وہ دکھائیں ۔
اسد عمر کے وکیل انور منصور نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی کاپی پیش کردی۔سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن ہمارے خلاف کارروائی کرسکتا ہے,خدشہ ہے الیکشن کمیشن فرد جرم عائد کرکے کارروائی شروع کردی گا ۔
جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ آپ کا کہنا ہے الیکشن کمیشن عدالت نہیں ہے اسلئے توہین الیکشن کمیشن کے نوٹس جاری نہیں کرسکتا ؟۔
ایڈووکیٹ انور منصور نے کہا کہ میں آئین کے آرٹیکل 204 پر انحصار کروں گا جو توہین عدالت کو سمجھنے کیلئے واضح ہے ,عدالت تو ماتحت عدالتیں بھی ہیں مگر توہین عدالت کا اختیار صرف سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے پاس ہے , سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے علاوہ کوئی جوڈیشل فورم توہین کی کارروائی کا اختیار نہیں رکھتا۔
جسٹس یوسف علی سعید نے کہا کہ توہین الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کی درخواست کی سماعت کی , اگر کوئی سرکاری ادارہ یا کوئ شخص حکم عدولی کرے تو عدالت کیا کرے ؟
ایڈووکیٹ انور منصور نے کہا کہ ماتحت عدالت کے پاس توہین عدالت کی کارروائی کا اختیار نہیں ،
ماتحت عدالت ہائی کورٹ کو ریفر کرتی ہے ، جوڈیشل ریویو کا اختیار صرف اعلی عدالت کے پاس ہے ، الیکشن کمیشن ایکٹ 2017 کا سیکشن 10 غیر آئینی ہے
عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے اس قانون کو چیلنج کیا ہے ؟
ایڈووکیٹ انور منصور خان نے کہا کہ ہم نے سیکشن 10 کو چیلنج کیا ہے یہ شق خلاف آئین و قانون ہے , الیکشن کمیشن کو عدالت کے اختیارات نہیں دیے جاسکتے، یہ آئین کی روح کے منافی ہے
توہین الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کی درخواست کی مزید سماعت 16 فروری تک ملتوی کردی گئی ۔
عدالت نے حکم امتناع دینے کی زبانی استدعا مسترد کردی
