اسلام آباد: ا سٹیٹ بنک نے ایل سیز کھولنے سے انکار کر دیا،ملک بھر کی انڈسٹری مفلوج ہو کر رہ گئی، ملک کے ہزاروں کارخانے بند ہونےکا خدشہ پیدا ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق سٹیٹ بینک حکام سے ملک بھر کی انڈسٹریز کی ایسوسی ایشنز نے ایک مرتبہ پھر رابطہ کیا تو انہوں نے فوری ایل سیزکھولنے سے انکار کر دیا ہے،اور موقف اختیار کیا ہے کہ ایل سی کھولنے کے حوالے سے نئی پالیسی بنانے کا فیصلہ کیا ہے،اس سلسلے میں ہر انڈسٹری کی ترجیح کے حوالے سے ایل سی کھولی جائے گی،جس پر سرمایہ کاروں نے گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اس حوالے سے پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج سٹیل پروڈیوسرز(پی اے ایل ایس پی) نے ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سٹیل سیکٹر کو ایل سیز پر پابندی کے باعث پیدا ہونے والے بحران سے نکالنے میں مدد دی جائے۔ یہ شعبہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور برآمدات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پی اے ایل ایس پی کی قیادت نے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، ایل سی کھولنے پر پابندی، روپے کی گرتی ہوئی قدر، مہنگائی کے زبردست دباؤ، لیکویڈیٹی کی کمی اور پیداواری لاگت میں نمایاں اضافے پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پیداواری شعبے کے لئے ایک چیلنج قرار دیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ دسمبر کے دوران سیمنٹ کی سال بہ سال پیداوار میں نو فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو(3.67 ملین ٹن) جبکہ سکریپ کی درامد میں پچپن فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے( 191000ملین ٹن)۔یہ گزشتہ دس سال میں سال بہ سال کمی کا ایک ریکارڈ ہے جس سے بڑے پیمانے پر صنعتوں کی بندش کا پتہ چلتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سٹیل سیکٹر ملک کا چوتھا بڑا برآمد کنندہ ہے۔گزشتہ سال آٹھ سو ملین ڈالر سے زیادہ کی سٹیل برآمدات کی گئیں جس پر حکومت کی طرف سے کوئی سبسڈی بھی نہیں دی گئی۔
