پشاور: خود کش دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر انتہائی رقت آمیز مناظر نظر آئے، پولیس افسران و اہلکار نم آنکھوں کے ساتھ اپنے ساتھیوں کی لاشیں اٹھاتے نظر آئے ۔
دھماکے کے بعد شہر میں خوف ہراس پھیل گیا، تاجروں نے مارکیٹیں بند کر دیں، سڑکیں ویران ہو گئیں ۔ پیر کے روز پشاورمیں ہونے والے دھماکے نے شہر کو ایک بار پھر افسردہ کر دیا ۔
لوگ اپنے پیاروں کی تلاش کےلئے جائے وقوعہ کے بعد ہسپتالوں میں بھی مارے مارے پھرتے رہے ۔خواتین زاروقطار روتی رہیں ۔
اسی طرح اسی طرح جائے وقوعہ پر بھی انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے جہاں پولیس افسران و اہلکار نم آنکھوں کے ساتھ اپنے ساتھیوں کی لاشیں اٹھاتے نظر آئے۔
دھماکے کے زخمی سب انسپکٹر مشتاق خان نے بیان میں کہا کہ امام نے جیسے ہی تکبیر پڑھی، اْسی وقت دھماکہ ہوگیا۔شدت اتنی زیادہ تھی کہ میں برآمدے سے باہر جاکر گرا۔ دھماکے کے بعد شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاجروں نے مارکیٹیں بند کر دیں، سڑکیں ویران ہو گئیں ۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں جماعتِ اسلامی کے سابق پارلیمانی لیڈر عنایت اللہ خان ے بتایا کہ جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت میں کیپٹل سٹی پولیس کے دفتر میں موجود تھا۔ یہ ایک انتہائی زوردار اور خوفناک دھماکہ تھا۔ جس نے سارے در و دیوار ہلا کر رکھ دیے تھے۔
عنایت اللہ کہتے ہیں کہ ’جب میں جائے وقوعہ پر پہنچا تو کہرام مچا ہوا تھا۔’مسجد کا وہ حصہ جہاں پر محراب ہوتا ہے وہ زمین بوس ہو چکا تھا۔ وہاں پر چیخ و پکار تھی اور بے تحاشہ زخمی تھے۔انہو ں نے کہا کہ یہ دھماکہ ایسے مقام پر ہوا جو انتہائی محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ جہاں پر انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے دفاتر ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت ہی سخت پیغام دیا گیا ہے کہ ہم ایسی جگہ پر بھی پہنچ سکتے ہیں۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں موجود مجیب الرحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال ایمرجنسی میں زخمیوں کا ہجوم تھا۔شہری زاہد آفریدی نےکہا کہ دھماکے کی آواز کم از کم پانچ سو میٹر دوری پر سنی۔ ہم سکتے میں آگئے بھگدڑ مچ گئی تھی ۔
