عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس کی سماعت

عالمی عدالتِ انصاف آج انڈین بحریہ کے سابق افسر كلبھوشن جادھو کو پاکستان میں پھانسی کی سزا سنائے جانے کے معاملے کی سماعت کرے گی۔

انڈیا کی جانب سے دس مئی کو دی ہیگ میں واقع عالمی عدالتِ انصاف سے رجوع کرتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی گئی تھی۔

انڈیا نے بین الاقوامی عدالت سے اپیل کی تھی کہ جادھو کی پھانسی کے خلاف اپیل کرنے کے لیے بہت کم وقت ہے اور پاکستان میں تمام امکانات پر غور کرنے کے لیے وقت نہیں ہے۔

انڈیا نے 15 سے زیادہ بار كلبھوشن جادھو کو قانونی مدد دینے کے لیے قونصلر رسائی کا مطالبہ کیا ہے، لیکن پاکستان نے اب تک اس کی منظوری نہیں دی۔

خیال رہے کہ پاکستان کی فوجی عدالت نے جادھو کو جاسوسی اور دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے معاملے میں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج نے ٹویٹ کے ذریعے کہا تھا کہ سینیئر وکیل ہریش سالوے عالمی عدالت انصاف میں بھارت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

پاکستان کی قانونی ٹیم کی سربراہی اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کریں گے۔

اس سے قبل انڈین خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ہیگ میں بین الاقوامی عدالت نے اس معاملے میں پاکستان سے یہ یقینی بنانے کو کہا ہے کہ كلبھوشن یادو کو تمام قانونی راستوں پر غور کرنے سے پہلے پھانسی نہ دی جائے۔ تاہم بین الاقوامی عدالت کی طرف سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

جادھو کی والدہ نے پاکستان حکومت سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنے بیٹے سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

سشما سوراج

انڈیا نے بین الاقوامی عدالت سے اپنی اپیل میں کہا تھا کہ كلبھوشن جادھو کو پاکستان نے ایران میں اغوا کر لیا تھا جہاں وہ بھارتی بحریہ سے ریٹائر ہونے کے بعد تجارت کر رہے تھے۔

پاکستان نے گذشتہ سال تین مارچ کو بلوچستان سے ان کی گرفتاری ظاہر کی اور اس بارے میں بھارت کو 25 مارچ 2016 کو سرکاری معلومات دی گئیں۔

انڈیا نے عدالت کو بتایا ہے کہ 23 جنوری 2017 کو پاکستان نے كلبھوشن جادھو کے مبینہ طور پر پاکستان میں جاسوسی اور شدت پسند سرگرمیوں میں شامل ہونے کے معاملے کی تحقیقات میں مدد مانگی تھی اور کہا تھا کہ قونصلر رسائی کی درخواست پر غور کرتے ہوئے بھارت کے جواب کو ذہن میں رکھا جائے گا۔

انڈیا کا دعویٰ ہے کہ تحقیقات میں مدد مانگنے کو قونصلر رسائی کے مطالبے سے جوڑنا ویانا كنونشن کے خلاف ہے۔

کلبھوبشن کا ویڈیو بیان

یاد رہے کہ مارچ 2016 میں کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد پاکستان کی جانب سے ان کا ایک ویڈیو بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا جس میں وہ یہ اعتراف کرتے دکھائی دیے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور وہ انڈیا کی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کر رہے تھے۔

انڈیا کی وزراتِ خارجہ نے اس ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں گرفتار کیے گئے شخص کا انڈیا کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: