کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ڈیف ریچ اسکول میں اسناد کی تقسیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے خصوصی افراد کوروزگارکی فراہمی کے حوالے سے اپنے ہرادارے میں مخصوص کوٹہ مقرر کررکھا ہے جس میں خصوصی افراد کو اہلیت کی بنیاد پرروزگارفراہم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر پرزوردیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اپنے دروازے خصوصی افراد کیلئے کھولیں تاکہ انہیں روزگارمیسر آئے،انہوں نے کہا کہ سندھ میں ابھی بھی ایک لاکھ خصوصی بچے موجود ہیں جنہیں اسکولوں میں انداراج کرانا ہے،ہونہار طلباء اور انکی قابلیت دیکھ کرمجھے بے حد خوشی ہوئی،جنہوں نے بیچلرآف آرٹس پروگرام سے گریجویشن مکمل کیا،سندھ حکومت کا وژن ہے کہ خصوصی افراد کو ترقی کے وسیع مواقع فراہم کئے جائیں،شراکت دارکے طورپرڈیف ریچ نے ہمارے وژن کو آگے بڑھایا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ میں نے ڈیف ریچ کا ڈیجیٹل اشاروں کی زبان سیکھنے کا پروگرام دیکھا جو نا صرف طلباء بلکہ پاکستان کے دیگرسیکٹرمیں بھی صلاحیت پیدا کرنے میں مدد دیگا،مجھے امید ہے کہ ڈیجیٹل اشاروں کی زبان مستقبل قریب میں حیرت انگیزاثرڈالنے والی ہے،ڈیف ریچ سینٹرکی عمارت 2 ایکڑ پرمحیط ہے جہاں 2 ہزار بچے زیرتعلیم ہیں،وزیراعلیٰ نے اس میں مزید دو منزلیں تعمیر کرنیکا اعلان کیا،وزیراعلیٰ کے ڈیف ریچ پہنچنے پرمشیرصادق میمن،ڈیف ریچ کے بانی رچرڈ گیری نے انکا استقبال کیا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کے بینکوئٹ ہال میں محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے اساتذہ میں تربیتی اسناد کی تقسیم کے حوالے سے منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ تعلیم کسی بھی ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اوراس شعبے میں حقیقی ترقی اورمطلوبہ ہدف کو حاصل کئے بغیرہم اقوام عالم میں ترقی نہیں کرسکتے،پروگرام میں میزبان صوبائی وزیرسید سردارشاہ، معاون خصوصی نایاب لغاری،ایم پی اے غلام قادر ملکانی،سیکریٹری کالج ایجوکیشن احمد بخش ناریجو،سیکریٹری اسکول ایجوکیشن اکبرلغاری،گریجویٹ اساتذہ نے شرکت کی ۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ انکی حکومت تعلیم کے شعبے میں مزید بہتری لانے کیلئے پرعزم ہے اورجو کہ تعلیم جیسے خاص شعبے میں ہماری پالیسیوں اوراقدامات سے واضح ہے،اسکولوں سے باہربچوں کو تعلیمی نیٹ ورک میں لاکراوراسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد کو کم کرتے ہوئے انکی حکومت نے بہت سے نئے طریقے متعارف کرائے جن میں مفت نصابی کتب،طالبات کو وظیفہ،تباہ شدہ اسکولوں کی عمارتوں کی بحالی، اسکولوں میں فرنیچرکی فراہمی،میرٹ کی بنیاد پراساتذہ کی بھرتی اوربند اسکولوں کی بحالی شامل ہے۔
