کراچی : پاک بحریہ کے زیر اہتمام بحری مشق امن 2023ء آج سے آغاز ہو گیا ہے،کثیرالقومی بحری مشق امن کا آغاز شریک ممالک کی پرچم کشائی کی تقریب سے ہوا۔
نیول چیف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کا کہنا ہے کہ آٹھویں امن مشق 2023ء میں تمام شرکاء کو خوش آمدید کہتا ہوں،ان کا کہنا ہے کہ میری ٹائم سیکیورٹی کو غیر روایتی خطرات کا سامنا ہے۔ماحولیاتی تبدیلی نے سمندری ماحول پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، پاک بحریہ خطے میں مشترکہ بحری سیکیورٹی کو فروغ دے رہی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ امن مشق میں دنیا کے تمام خطوں کی اقوام کے پرچم دیکھ کر فخر محسوس کرتے ہیں، مشق کے لیے لہراتے پرچم امن کے لیے متحد ہونے کا پیغام ہے امن مشق کی تعمیری کوشش ہمارے عزم کو ثابت کرتی ہے۔
مشق سے تمام شرکاء کو سمندر میں امن کے لیے مشترکہ فوائد حاصل ہوں گے۔امن مشق میں مختلف ممالک کے بحری اثاثے، مبصرین اور سینئر افسران شریک ہیں۔
اس موقع پرکمانڈر پاکستان فلیٹ وائس ایڈمرل اویس احمد بلگرامی نے امن مشق کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تمام معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔
وائس ایڈمرل اویس بلگرامی نے ترکیہ اور شام کےواقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری دعائیں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ میری ٹائم سیکیورٹی تمام ملکوں کے لیے بہت اہم ہے، امن مشق کا مقصد دوستی اور پارٹنرشپ کو فروغ دینا ہےبحری سیکیورٹی کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا، میری ٹائم سیکیورٹی کو غیر روایتی خطرات کا سامنا ہے،ہم سب سے پہلے سمندروں سے تجارت پر انحصار کرتے ہیں، ہمارا دوسرا انحصار گوادر اور تیسرا ہماری جغرافیائی لوکیشن پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مشترکہ میری ٹائم سیکیورٹی کے پراجیکٹس پر زور دیتے ہیں، امید ہے اس بار کی مشقیں بھی سود مند ثابت ہوں گی، ہم اپنے مہمانوں کی بہتر انداز میں میزبانی کریں گے،بحری مشق کا مقصد اقوام عالم کو بتانا ہے امن کیلئے ہم متحد ہیں۔
وائس ایڈمرل اویس بلگرامی نے کہاکہ امن مشق کے حوالے سے کہا کہ امن مشقیں بحری جہاز بنانے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں، ان کے دوران فرینڈ شپس، ریلشن شپس بنائے جاتے ہیں، امید ہے اس بار کی مشقیں بھی سود مند ثابت ہوں گی۔ آٹھویں کثیر القومی بحری مشق 14 فروری تک جاری رہے گی، جس میں 50 سے زائد ممالک کے نمائندگان شریک ہیں۔
