Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
مافیا کے خلاف جنگ میں عمران کے ساتھ کھڑے رہیں گے ، علی زیدی | زرائع نیوز

مافیا کے خلاف جنگ میں عمران کے ساتھ کھڑے رہیں گے ، علی زیدی

کراچی : پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر و سابق وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا ہے کہ عمران خان نے جس مافیا کے خلاف جنگ شروع کی ہے ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم عمران خان کا ساتھ دیں۔ مجھ سمیت بہت سے پاکستانی ایسے ہیں جو اپنی مرضی سے پاکستان واپس آئے، بہت سارے لوگ باہر جاتے ہیں اپنی زندگی اور مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے۔ ہمارے پاکستانی دنیابھر میں بیٹھے بہت بڑے بڑے کام کررہے ہیں۔ دنیا میں ہم نے دیکھا کہ بہت سے بڑے نام اقتدار ختم ہونے کے بعد انسانی خدمت کے کام شروع کرتے ہیں لیکن عمران خان واحد شخص ہے جس نے اقتدار سے بہت پہلے ہی سماجی خدمت کے کام شروع کردیے تھے جس کی سب سے بڑی مثال شوکت خانم کینسر ہسپتال ہے۔

ضلع شرقی ڈسٹرکٹ کونسل میں ریٹرننگ افسر کے پاس اپنے کا غذات کی اسکروٹنی کے بعد گفتگو کرتے ہوئے علی زیدی کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے ساتھ اس جدوجہد میں میں چار الیکشن لڑ کر ہار چکا ہوں لیکن ہمت نہیں ہاری اور 2018میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں کامیابی سے ہمکنار کیا۔ 2018میں عمران خان نے مجھے وزیر بنایا اور ساڑھے تین سال تک ایک ہی وزارت میرے پاس رہی۔ جب میں وزارت سے ہٹا تو پورٹ قاسم کے ریزرو فنڈ ایک بلین امریکی ڈالر چھوڑ کرگیا۔ یہ ایک بلین ڈالر کا ریزرو کوئی زمینیں بیچ کر نہیں بلکہ منافع کما کر بنایا گیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں علی زیدی کا کہنا تھا کہ ملک میں دو طرح کی سیاست ہے۔ ایک طاقت کی سیاست ہے اور ایک تبدیلی اور انقلاب کی سیاست ہے۔ طاقت کی سیاست میں آپ طاقت میں رہنے کے لئے سب کچھ کرتے ہیں چاہے کچھ بھی کرنا پڑ جائے۔

ان کا کہناتھاکہ جو نئی حکومت آتی ہے وہ کہتی ہے کہ ہم عوام کا نیا مینڈیٹ لے کر آئے ہیں۔ یہ طاقت کی سیاست اس لیے کررہے ہیں کہ انہیں اقتدار سے چمٹے رہنا ہے۔ اس وقت ملک کے جو حالات ہے وہ صرف انتخابات اور عوامی مینڈیٹ کی حامل حکومت کے ذریعے ہی ٹھیک کئے جا سکتے ہیں۔