گندم کی4 ہزار روپے کی قیمت کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوگیا، سعید غنی

کراچی : وزیر محنت و افرادی قوت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبے میں گندم کی 4000 روپے کی قیمت کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوگیا ہے، گندم کی خریداری ہمارا ٹارگٹ بھی 1.4 ملین میٹرک ٹن کا ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں کراچی میں امن کی صورتحال بہت خراب تھی۔ ہم بڑے جرائم پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئے ہیں ، اس سلسلے میں خود وزیر اعلٰی سندھ اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے حوالے سے اجلاس کررہے ہیں۔

جمعہ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں مختلف ارکان اسمبلی کے توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں کیا۔ جی ڈی اے کے عارف مصطفی جتوئی نے اپنے توجہ دلاؤ نوٹس میں کہا کہ سندھ حکومت گندم کی موجودہ فصل کے لیے کم سے کم امدادی قیمت کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کرنے میں ناکام ہے۔ گندم کی فصل کے بیج کے لیے کاشتکاروں کو 5 ہزار روپے دینے تھے۔ ابھی تک وہ پیسے دیئے نہیں گئے ہیں، جبکہ حکومت نے کہا تھا کہ ہم فصل کاشت کرنے سے پہلے اعلان کریں گے۔

صوبائی وزیر سعید غنی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ گندم کہ قیمت کا اعلان پہلے ہی کردیا گیا تھا۔ اور اب 4000 روپے کی قیمت کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال سندھ حکومت نے گندم کی خریداری ہمارا ٹارگٹ بھی 1.4 ملین میٹرک ٹن کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سال سے ملک میں گندم کی امپورٹ ہورہی ہے۔ سندھ حکومت نے قیمت بڑھا کر 4000 روپے کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان زیادہ سے زیادہ گندم کاشت کریں۔ اس سال 40 لاکھ ٹن گندم پیدا ہوگئی۔ اس سے ہماری پیدوار بڑھی ہے۔

پی ٹی آئی کی ادیبہ حسن کا توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ امن و امان کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے اسٹریٹ کرائم پر اجلاس کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم میں کمی آنا چاہیے۔آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جیز کے ساتھ میٹنگ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے پاس پولیس موبائل ہیں اور موٹر سائیکل ہیں، پولیس کو کہا گیا ہے کہ وہ سڑکوں پر نظر آئیں۔ سعید غنی نے کہا کہ گزشتہ دہائیوں میں کراچی میں امن کی صورتحال بہت خراب تھی۔ ہم بڑے جرائم پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ البتہ بائیک چوری ہونے اور دیگر کرائم میں ابھی کمی نہیں آئی ہے اس پر پولیس و دیگر امن و امان کے ادارے کام کررہے ہیں۔

جی ڈی کے رکن شہریار مہر کے شکار پور میں امن و امان پر نقطہ اعتراض کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ایسے ایشو بلکل موجود ہیں ، پیپلز پارٹی نے بہت سی چیزیں کنٹرول کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعلیٰ کے سامنے یہ مسئلہ رکھوں گا، آئی جی سے بھی بات کروں گا۔