کون ہے کتے کا بچہ، تمھاری ہمت کیسے ہوئی؟ چیف جسٹس کی نہال ہاشمی سے سخت سرزنش

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں نہال ہاشمی کے عدلیہ مخالف بیان کیس کی سماعت ہوئی جس کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تمھاری ہمت کیسے ہوئی کتے کا بچہ کہنے کی؟ کون ہے کتے کا بچہ کس کو کہا کتے کا بچہ؟

سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کو توہین عدالت کیس میں طلب کر کے ان کی ‘کتے کے بچے والی’ ویڈیو دوبارہ کمرہ عدالت میں چلائی گئی چیف جسٹس ثاقب نثار نے نہال ہاشمی سے پوچھا کہ کون ہے کتے کا بچہ؟ کس کو کہا کتے کا بچہ؟

پاکستان 24 کے نامہ نگار کے مطابق نہال ہاشمی نے کہا کہ میں نے یہ الفاظ عدالت کے لیے نہیں بولے اب خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی جس کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ کیا یہ الفاظ اپنے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟

جسٹس ثاقب نثار نے نہال ہاشمی کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے اسے کوئی ندامت نہیں، اس نے قید کی سزا کے دوران بھی جھوٹ بولا اور اسپتال میں داخل ہوا جبکہ محترم کے لیے اڈیالہ میں بھی خصوصی محافل کا انعقاد کیا گیا۔

مزید پڑھیں: تنقید تو سب نے کی، مگر نہال ہاشمی کو کراچی کی وجہ سے سزا ملی

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سب کچھ علم میں ہونے کے باوجود ہم نے آپ کو چھوڑ دیا کیونکہ جج ذاتیات پر نہیں جاتے اس کے باوجود ججز کو کرپٹ اور کتے کا بچہ کہا گیا، یہ جرات کیسے ہوئی کہ کوئی ہمیں یا عدلیہ کے لیے اس طرح کے نازیبا الفاظ استعمال کرے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ اپنے لیے کرپٹ اور کتے کے بچے جیسے الفاظ دہرا سکتے ہو؟؟

چیف جسٹس نے کہا بار کونسل کے سرکردہ بزرگوں سے معاملے پر تجاویز طلب کرتے ہوئے کہا کہ جو تجویز کریں گے ویسا ہی کیا جائے گا، کل اگر میرا بچہ بھی پکڑا گیا تو اسکا فیصلہ وکلاء سے کرواں گا ، وکلاء جو کہیں گے ہم وہ سزا دینے کو تیار ہیں۔

چیف جسٹس نے رشید اے رضوی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی عدالت کی توہین کی گئی، چیف جسٹس نے سینئر وکلاء کو روسٹرم پر طلب کر کے کہا کہ ج وکلاء کے انصاف کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ رشید اے رضوی صاحب آپ کے انصاف کا بھی امتحان ہے، جس پر اے رضوی کا کہنا تھا کہ ان باتوں کا یا الفاظوں کا کسی صورت دفاع نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہم سب نے ادارے کی سربلندی کیلئے زندگی گزاری ہے اور نہ کبھی بغض میں ہی پی سی او ججز کے خلاف بھی اسی بات نہیں کی۔

اسے بھی پڑھیں: نہال ہاشمی کا لسانی جماعت میں‌شمولیت کا امکان

عدالت میں نہال ہاشمی نے موقف اختیار کیا کہ میں نے وہ باتیں نہیں کیں تھی جو سمجھی جارہی ہیں، خود کو عدالت کے رحم کو کرم پر چھوڑتا ہوں، چیف جسٹس نے نہال پاشمی سے استفسار کیا جو باتیں آپ نے کی کیا وہ قابل رحم ہیں ؟؟ آپ نے سپریم کورٹ کو گالیاں دیں۔

ان ریمارکس کے ساتھ چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں دوبارہ نہال ہاشمی کی ویڈیو چلائی اور پھر دہرایا کہ کون ہے کتے کا بچہ؟،نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ میں ندامت اور شرمندگی کا اظہار کرتا ہوں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں ایسی باتیں کرتا تو شرم سے ڈوب کر مرجاتا، بار کا کوئی وکیل ایسی گفتگو کرے گا اس بات کا تو سوچ بھی نہیں سکتے، اگر کسی نے دوبارہ ججز یا عدلیہ کے لیے ایسے الفاظ دہراے تو اُسے نہیں چھوڑیں گے۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ابھی ہم نہال ہاشمی کے وکالت کا لائسنس معطل کرنے کا سوچیں گے،، عدالت نے بار کونسل کے وائس چیئرمین کو کل طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تل ملتوی کر دی۔

بشکریہ : پاکستان 24


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: