کراچی: عوامی تحریک نے ملک دشمن ڈیجیٹل مردم شماری، سندھ کی زمینوں کی نیلامی، مہنگائی، ڈومیسائل پالیسی، نئے صوبے کیلئے کمیٹی کی تشکیل کے خلاف اتوار کو ریگل چوک سے کراچی پریس کلب تک احتجاجی مارچ کیا گیا۔
مارچ میں ہاری، مزدور، طلبہ، وکلا، ادیب اور دانشوروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، نعرے بازی کے ساتھ غم و غصے کا اظہار کیا گیا، جس کی قیادت مرکزی صدر لال جروار، سندھیانی تحریک کی صدر سبھانی ڈاھری، سندھ ہاری تحریک کے صدر ڈاکٹر دلدار لغاری و دیگر نے کی۔
رہنمائوں نے مطالبہ کیا کہ تمام اختیارات صوبوں کو دیئے جائیں، غیر ملکیوں کی سندھ میں زمینوں اور پلاٹوں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی جائے، ڈیجیٹل مردم شماری میں شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنا غیر ملکیوں کو مردم شماری میں شامل کرکے سندھی قوم کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی ہے، جس کو ہم ناکام بنادیں گے، سندھ کے جزائر، پہاڑ، بندرگاہ، تیل، تیل، گیس، کوئلہ ذخائر پر وفاق کا قبضہ ختم کیا جائے، نئے صوبے بنانے کی کمیٹی قائم کرنا سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیاکہ کمیٹی ختم کی جائے،سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق افغانی، بہاری، برمیون سمیت تمام غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا جائے، جعلی ڈوميسائل اور شناختی کارڈ بنوانا پر پابندی لگائی جائے، کراچی میں سندھی دیہات کو ریگولر کرکے بنیادی سہولیات دی جائیں، بارش، سیلاب سے متاثرہ ہر خاندان کو گھر بنانے کیلئے 50 لاکھ روپے دیئے جائیں، جاں بحق افراد کے لواحقین کو 1 کروڑ اور زخمیوں کو 30 لاکھ روپے دئیے جائیں، مہنگائی پر قابو پایا جائے، مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو بھرپور احتجاج ہوگا۔
