سادہ لباس اہلکاروں کی کارروائی، جامعہ کراچی کا اسسٹنٹ ڈپٹی رجسٹرار گرفتار

کراچی یونیورسٹی میں سادہ لباس اہلکاروں کی کارروائی،  یونیورسٹی کے اسسٹنٹ ڈپٹی رجسٹرار اور ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر عارف حیدر کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی یونیورسٹی کے ملازم اور اسسٹنٹ ڈپٹی رجسٹرار جو ایم کیو ایم لندن کی عبوری رابطہ کمیٹی کے رکن تھے اور 21 جنوری کے جلسے کے حوالے سے کافی متحرک تھے انہیں رینجرز اور سادہ لباس اہلکاروں نے دفتر سے حراست میں لے لیا۔

سادہ لباس میں ملبوث اہلکار کراچی یونیورسٹی کے ایڈمن بلاک میں صبح داخل ہوئے اور عارف حیدر کو گرفتار کرکے اپنے ہمراہ نامعلوم مقام پر لے گئے، عارف حیدر اور اُن کی اہلیہ ایم کیو ایم لندن کے لیے متحرک ہیں۔

یونیورسٹی ذرائع کے مطابق عارف حیدر کو سادہ لباس اہلکار رینجرز کی گاڑی میں اپنے ہمراہ لے کر گئے ہیں، عارف حیدر کی گرفتاری کے حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ لاعلم ہے تاہم خالد عراقی سے رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ “گرفتاری کی وجوہات پتہ کی جارہی ہیں””۔

اسسٹنٹ ڈپٹی رجسٹرار کی گرفتاری کے بعد یونیورسٹی کی ٹیچرز ایسوسی ایشن نے تمام کلاسوں کا بائیکاٹ کردیا ہے جس کے باعث تعلیمی عمل مکمل معطل ہوگیا ہے، جبکہ کچھ دیر بعد گرفتاری کے خلاف یونیورسٹی میں احتجاج کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

ٹیچرز ایسوسی ایشن نے عارف حیدر کی گرفتاری کے خلاف تمام اراکین کا اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کرلیا ہے، جس میں آئندہ کا لائحہ عمل بھی بیان کیا جائے گا اور رہائی تک تدریسی عمل معطل رہنے کے فیصلے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

واضح رہے 22 اگست کی تقریر کے بعد عارف حیدر خاموش زندگی بسر کررہے تھے اور انہوں نے تمام سیاسی کاموں سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ عسکری ذرائع کے مطابق عارف حیدر ملک دشمن سرگرمیوں اور یونیورسٹی میں جعلی داخلے کروانے میں ملوث ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں