کراچی: جوڈیشل میجسٹریٹ وسطی نے آن لائن خریداری میں کروڑوں روپے کے مبینہ فراڈ سے متعلق ہراسان کرنے کیخلاف مقدمے میں دونوں فریقین کو بیٹھ کر معاملات طے کرکے جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
کراچی سٹی کورٹ میں جوڈیشل میجسٹریٹ وسطی کی عدالت کے روبرو آن لائن خریداری میں کروڑوں روپے کے مبینہ فراڈ سے متعلق مبینہ فراڈ کرنے والی خاتون ردا تبسم کے متاثرین کیخلاف ہراساں کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ 40 سے زائد خواتین و مرد متاثرین انصاف کے لئے عدالت پہنچ گئے۔
متاثرین کے وکیل جاوید احمد چھتاری ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ میرے موکلین کے ساتھ کاروبار میں دھوکہ کیا گیا ہے لہذا ہمارے پیسے واپس دلوائے جائیں۔
مدعی مقدمہ کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ہم متاثرین کے پیسے لوٹانے کے لئے تیار ہے بیٹھ کر معاملات طے کرلیں۔ بیٹھ کر بات چیت کرلیں تھوڑا وقت دے دیں رقم لوٹا دیں گے۔ عدالت نے دونوں فریقین کو بیٹھ کر معاملات طے کرکے جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یکم مارچ تک فریقین جواب جمع کرائیں۔ سماعت سے قبل سٹی کورٹ میں متاثرین نے احتجاج اور مظاہرہ کیا۔ متاثرہ شہریوں میں خواتین کی بڑی تعداد شامل تھیں۔
اس موقع پر متاثرین کے وکیل جاوید چھتاری نے کہا کہ سینکڑوں لوگوں سے فراڈ کیا گیا۔ متاثرین کے ساتھ 20 کروڑ کا فراڈ کیا گیا۔
متاثرہ خواتین کا کہنا تھا کہ ردا تبسم نے ہمارے ساتھ فراڈ کیا ہے۔ ردا برانڈیڈ کپڑوں کی خرید و فروخت کرتی تھی۔
