اسلامی جمعیت طلبہ کے ترجمان نے جامعہ کراچی میں اساتذہ کی ہڑتال کے بعد کی حالیہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کراچی کذشتہ طویل عرصہ سے انتظامیہ و مالی بحران کا شکار ہے۔ حالیہ تدریسی عمل کے بائیکاٹ کے نتیجے میں طلبہ و طالبات کو تعلیمی نقصان کے ساتھ ساتھ مالی نقصان بھی ہورہا ہے۔
ترجمان اسلامی جمیعت طلبہ نے کہا کہ طلبہ و طالبات ایک طویل عرصے سے ایک غیر یقینی کی صورتحال سے دو چار ہیں۔ جس کی نتیجے میں طلبہ و طالبات شدید ذہنی اذیت سے دو چار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ و طالبات سے فیس مکمل سیمسٹر یعنی کم و بیش 6 ماہ کی وصول کی جاتی ہے۔ مگر ایک طویل عرصہ سے یہی روش شروع ہوچکی ہے کہ دو، دو ہفتوں تک تدریسی عمل کسی نہ کسی وجہ سے معطل رہتا ہے۔
جمعیت کے ترجمان نے کہا کہ انتظامیہ اور اساتذہ کا یہ عمل صرف جامعہ کراچی جیسی عظیم درسگاہ کی ساکھ کے لئے نقصان کا باعث ہے۔ بلکہ نئے داخلہ لینے والے طلبہ و طالبات کے ذہنوں پر بھی نبفی اثرات مرتب کررہا ہے۔
اسلامی جمیعت طلبہ نے واضح کیا کہ اساتذہ اور ملازمین کے جائز حقوق نہ دینا بھی قابل مذمت اور شرمناک عمل ہے۔ لیکن ان سب معاملات کے باوجود جو نقصان صرف اور صرف طلبہ و طالبات کا ہے۔ سندھ حکومت اور انتظامیہ جامعہ کراچی سے یہ پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان تمام مسائل کو جلد سے جلد مکمل طور پر حل کیا جائے۔
