Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
ڈرامہ" تیرے بن " میں اداکارہ کو تھپڑ کیوں مارا؟ بشری انصاری نے بتا دیا | زرائع نیوز

ڈرامہ” تیرے بن ” میں اداکارہ کو تھپڑ کیوں مارا؟ بشری انصاری نے بتا دیا

لاہور : شوبز انڈسٹری کی اداکارہ بشریٰ انصاری نے اپنے حالیہ انٹرویو میں ڈرامہ سیریل تیرے بن میں یمنیٰ زیدی کو تھپڑ مارنے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

انہوں نے انٹرویو دیتے ہوئے میزبان کہکشاں بخاری کے اسکرین پر ساتھی اداکاروں کو تھپڑ مارنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ان سے کسی کو تھپڑ نہیں مارا جاتا۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسے مناظر کو تبدیل کروا دے ۔

کیونکہ کسی کو تھپڑ مارنا بہت مشکل کام ہے، لیکن بعض اوقات ایسا ممکن نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماں بیگم کا کردار ایک اصول پسند خاتون کا ہے جو یہ ہرگز برداشت نہیں کرتی کہ اس کے گھر کی خواتین بیچ محفل میں یوں سب کے سامنے ڈانس کریں۔

انہوں نے شادی بیاہ کے موقع پر ڈانس کی بڑھتی ہوئی روایت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ایک دور تھا جب دلہنیں صرف شادی اور ولیمے کے دن تیار ہوتی تھیں تاہم اب مایوں اور مہندی میں بھی بالکل دلہن بن جاتی ہیں کوئی فرق نہیں رہتا پھر سب کے سامنے بیچ محفل میں ڈانس بھی ہوتا ہے جو کہ غلط ہے ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔

کم از کم مایوں اور مہندی کی تقریبات میں دلہنوں کو سادہ رہنا چاہیئے تاکہ شادی والے دن روپ چڑھے۔

ڈرامہ سیریل تیرے بن کے مرکزی کردار وہاج علی کی اداکاری کو خوب سراہا اور کہا کہ وہاج کی آنکھوں میں بہت اچھے تاثرات ہیں جو اپنی جاندار پرفارمنس سے اپنے کردار کو سب میں نمایاں کر دیتے ہیں۔

انہوں نے موجودہ ڈرامہ نگاروں کے حوالے سے کہا کہ ان کیایک جیسی ہی کہانیاں سامنے آرہی ہیں، ڈرامہ رائٹرز کو چاہیئے کہ کہانیوں کو موجودہ دور کے انداز میں ڈھالیں۔

یہ کسی بہت پرانے زمانے کی بات لگتی ہے جہاں ساس اپنی بہو پر ظلم کرتی تھی، اب وقت کے ساتھ ساتھ بہت کچھ تبدیل ہو رہا ہے اس لئے ڈرامہ نگاروں کو بھی چاہیئے کہ معاشرے میں آنے والی تبدیلی کو اپنے ڈراموں کا حصہ بنائیں۔