Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
90دن میں انتخابات نہیں ہوئے تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی:سپریم کورٹ | زرائع نیوز

90دن میں انتخابات نہیں ہوئے تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی:سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے عام انتخابات کے راستے میں حائل رکاوٹوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ 90دنوں میں انتخابات کرانا آئین کی منشا ہے۔جمعرات کو سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے تبادلے سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے پنجاب بھر میں سرکاری افسران کے تبادلوں کا نوٹس لیا اورچیف الیکشن کمشنر کو فوری طور پر وضاحت کے لیے طلب کرکے پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان میں تاخیر کا معاملہ اٹھایا۔

جسٹس اعجازلاحسن نے ریما رکس دیے کہ مقررہ وقت میں انتخابات نہیں ہوں گے تو آئین کی خلاف ورزی ہوگی ۔چیف الیکشن کمشنر نے پیش ہوکر بتایا کہ عدالت حکم دیں گی تو تبادلے روک دیں گے لیکن الیکشن کمیشن کا صوبے میں عام انتخابات کی تاریخ دینا آئین کی خلاف ورزی ہوگی،گورنر یا صدر مملکت تاریخ کا اعلان کر سکتے ہیں۔

جسٹس اعجازلاحسن نے کہا گورنر کے انکار کے بعد بال الیکشن کمیشن کے کورٹ میں ہے،وقت پر آزاد وشفاف الیکشن کا انعقاد الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے۔

اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے انتخابات کے راستے میں درپیش رکاوٹوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ کچھ باتیں عدالت کے سامنے رکھنا چاہتاہوں ، مجھے اپنے اختیارات اور آئینی تقاضے پر عمل کرنے سے روکا جا رہا ہے، آرمی سے سکیورٹی مانگی تو انکار کر دیا گیا، عدلیہ سے ریٹرننگ افسران مانگے تو انہوں نے انکار کر دیا اور انتخابات کے لیے پیسہ مانگا تو ا س سے بھی انکار کر دیا گیا۔

چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا میرے اختیارات کو کم کیا جا رہا ہے، ایسے حالات میں کس طرح فری فیئر الیکشن کروائے جائیں، اگر عدالت ٹرانسفرز کو فری الیکشن میں رکاوٹ سمجھتی ہے تو نہیں کریں گے۔

عدالت نے کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے انتخابات کے حوالے سے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ ہونے والے خط و کتابت کی تفصیلات طلب کر لیں۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر پیشی سے استثنا کی چیف الیکشن کمشنر کی استدعا مسترد کرکے ذاتی حثیت میں موجودگی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ جمعرات کو جسٹس اعجازلاحسن کی سربراہی میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کے تبادلے سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا عدالت کے حکم کے باجود سی سی پی او کیوں تبدیل کیا گیا، اتنی جلدی کیا تھی؟۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی اجازت سے غلام محمود ڈوگر کو تبدیل کیا گیا۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا آدھے پنجاب کو ٹرانسفر کردیا گیا ہے، کیا پنجاب میں ایسا کوئی ضلع ہے جہاں تبادلے نہ ہوئے ہوں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ افسران کی تبدیلی میں الیکشن کمیشن کا کیا کردار ہے جبکہ جسٹس مظاہر علی اکبر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کردار انتخابات کے اعلان ہونے کے بعد ہوتا ہے۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے موقف اپنایا کہ نگران حکومت آنے کی وجہ سے الیکشن کمیشن سے تبادلوں کی اجازت لی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق کیئر ٹیکر سیٹ اَپ آنے کے بعد 90 دنوں میں انتخابات ہونا ہیں۔جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا پھر بتائیں الیکشن ہیں کہاں۔

فاضل جج نے کہا الیکشن کمیشن اپنے کام کے علاوہ باقی سارے کام کررہا ہے۔عدالت نے سماعت کچھ وقت کے لیے ملتوی کردی۔چیف الیکشن کمشنر نے پیش ہوکر درپیش مسائل کا تذکرہ کیا جس پر جسٹس اعجازالاحسن نےکہا الیکشن کمیشن نے کسی کی ہدایت پرعمل نہیں کرنا خود فیصلے کرنا ہے۔

جسٹس اعجازلاحسن نے کہا الیکشن کمیشن آئین وقانون کے پابند ہیں پالیسیوں کے نہیں، الیکشن کمیشن تبادلے کررہا لیکن انتخابات کا اعلان نہیں کررہا ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا انتخابات کے حوالےسےآئین میں کوئی ابہام نہیں آئین ہرصورت90 روزمیں انتخابات کرانے کا پابند کرتاہے، انتخابات فی الحال ہوا میں ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ نگران حکومت تقرری وتبادلے نہیں کرسکتی نگران حکومت کوتبادلہ مقصود ہو تو ٹھوس وجوہات کیساتھ درخواست دےگی جسکا جائزہ لیکرالیکشن کمیشن مناسب حکم جاری کرنےکا پابندہے۔