اختیارات کی رسہ کشی، پی ٹی آئی کراچی میں بغاوت سراٹھانے لگی

متحد نظر آنے والی تحریک انصاف دھڑے بندی اور انتشار کا شکار
کراچی (خصوصی رپورٹ: مزمل فیروزی)متحد نظر آنے والی تحریک انصاف دھڑے بندی اور انتشار کا شکار ہے،وزیراعظم عمران خان کی راہ میں حائل رکاوٹیں ان کے اپنے پارٹی رہنماء ہی بنے ہوئے ہیں زیادہ تر دوسری جماعتوں سے آئے ہوئے سیاسی رہنماء عمران خان کی مشکلات میں اضافہ کررہے ہیں،بڑے رہنماؤں کے مابین غلط فہمیاں اور زبانی تنازعے دن بہ دن طول پکڑتے جارہے ہیں جسکی وجہ سے پارٹی رہنما تقسیم دکھائی دیتے ہیں،پاکستان تحریک انصاف میں عمران خان کی قیادت پر کوئی اختلاف نہیں البتہ گروپنگ ضرور ہے، جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے درمیان اختلافات کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہیں،تحریک انصاف میں اندرون خانہ رونما سرگرمیوں نے آپس میں گہرے اختلافات اور جھگڑوں کو واضح کر دیا ہے جن پر قابو پانے کی عمران خان مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں تاہم انہیں اپنے اس مقصد میں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔کون نہیں جانتا تھا کہ شاہ محمود قریشی، اسد عمر، شفقت محمود، چوہدری سرور جیسے دیگر رہنما جہانگیر ترین کے مخالف ہیں۔ ان کو پہلے دن سے گلہ ہے کہ سارا میلہ تو جہانگیر ترین لوٹ لیتے ہیں، وہ منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی میں اندرونی لڑائی اور نظم و ضبط کا نہ ہونا عمران خان کیلئے باعث تشویش ہے لیکن اپنی ساکھ اور ماضی کے ریکارڈ کے برعکس وہ کارکردگی نہ دکھانے والوں اور نظم و ضبط کا مظاہرہ نہ کرنے والوں کیخلاف کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
سندھ میں بھی تحریک انصاف میں دھڑے بندیاں عروج پرہے، جہانگیرترین نے سیاسی رابطوں کا سلسلہ سندھ تک بڑھا دیا سندھ سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی سے مسلسل رابطے میں ہے جبکہ خرم شیر زمان، حلیم عادل شیخ اور سیف الرحمان اپنے گروپ چلارہے ہیں جس کی وجہ سے کراچی کی سیاست بھی تحریک انصاف کے ہاتھ میں نہیں رہی ہے،کراچی میں بھی مختلف گروپس موجود ہیں۔ اور ہر سیاسی لیڈر اپنی الگ دکان چلا رہاہے، حلیم عادل شیخ اس وقت پی ٹی آئی سندھ میں سب سے زیادہ متحرک،طاقتور اور اثو رسوخ والے رہنما ثابت ہوئے ہیں یہی وجہ ہیکہ پی ٹی آئی سندھ میں حلیم عادل شیخ سب سے نمایاں نظر آتے ہیں اور قومی و صوبائی ممبران اسمبلی انکی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے پریشان نظر آتے ہیں، ابھی حال ہی میں پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اسلم خان نے اپنی ہی جماعت کے ایم پی اے عباس جعفری پر مقدمہ درج کروایا ہے، اسلم خان کے مطابق صوبائی اسمبلی کے ایم پی اے عباس جعفری کا چیک باؤنس ہونے پرمقدمہ درج کروایا، عباس جعفری نے انہیں الیکشن فنڈز کے لیے جو چیک دیا تھا وہ باؤنس ہوگیا ہے۔ذرائع کے مطابق عباس جعفر ی پر اسلم خان نے جون 2018 کا مقدمہ دو سال بعد درج کروایا جس سے صاف ظاہر ہیکہ پارٹی رہمناؤں کی آپس میں نہیں بن رہی ہے، عباس جعفری کے قریبی ساتھیوں کاکہنا ہیکہ اس سے پہلے رکن قومی اسمبلی اسلم خان عرف اسلم سنگاپوری نے اسمگلنگ کیس میں عبوری ضمانت حاصل کی ہوئی ہے، کسٹم کورٹ میں ملزم اسلم خان کو 5 لاکھ کے مچلکے جمع کروانے تھے جو انہوں نے نہیں کروائے تھے۔اس سے قبل اسلم خان اشتہاری ہونے کی تردیدکرتے رہے ہیں،تاہم حفاظتی ضمانت حاصل کرنے کے بعد اسلم خان کسٹم کورٹ میں پیش ہوئے اور عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کی۔واضح رہے کہ اسلم خان پر الیکٹرانک کا سامان اسمگلنگ کرنے کا الزام ہے، انہیں کسٹم کورٹ نے 1998 میں اشتہاری قرار دے کر ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نجیب ہارون نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے چکے ہیں،مستعفی ہونے والے ممبر قومی اسمبلی نے اپنے استعفے میں لکھا تھاکہ 20 ماہ سے ایم این اے ہونیکے باوجود نہ اپنے حلقے کے لیے کچھ نہ کر سکا اور نہ ہی شہر کراچی کے لیے، اس بارے میں وہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات بھی کر کے آچکے ہیں مگر ابھی تک ان کے تحفظات دور نہیں کئے جاسکے ہیں جبکہ اس سے پہلے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کراچی سے منتخب تحریک انصاف کے 3 اراکان قومی اسمبلی وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کے خلاف احتجاج کرچکے ہیں جبکہ علی زیدی کاکہنا تھا کہ ان تینوں اراکین نے انتخابات لڑنے کے لیے پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے مجھ سے مدد طلب کی تھی اور یہ آج میرے ہی خلاف احتجاج کررہے ہیں۔
جبکہ مستند ذرائع کے مطابق اس وقت سندھ میں پاکستان تحریک انصاف کے لگ بھگ 19 اراکین اسمبلی کا ایک ناراض گروپ سر گرم ہے جن میں سات رکن قومی اسمبلی اور بارہ اراکین سندھ اسمبلی شامل ہیں ان میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جن کے حلقوں میں کام کروانے کیلئے فنڈز جاری نہیں کئے گئے۔ اس سے قبل کراچی اور سندھ میں تنظیم سازی کے معاملے میں بھی پی ٹی آئی کے ذمہ داران میں شدید اختلافات سامنے آ چکے ہیں جس کی وجہ سے تنظیمی انتخابات کا معاملہ طویل عرصے تک کھٹائی میں پڑا رہاتھااور پھر بعدمیں پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اور چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی نے کراچی آ کر پارٹی کے داخلی انتشار کو ختم کرانے کی کوشش کی تھی، تب جا کر کراچی کی تنظیم کے عہدیداروں کا اعلان کیا گیا تاہم پارٹی کے اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ کراچی کے تنظیمی عہدیداروں کے مابین اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
سندھ کے ناراض پارلیمانی گروپ کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی شکایات وزیر اعظم تک پہنچانے کے لئے رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے مستند ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے اندر ہی دھڑے بندیاں موجود ہے اور رہنماء صوبائی قیادت سے نالاں ہیں،تحریک انصاف کے کئی ناراض اراکین سندھ حکومت سے رابطے میں ہے۔ پی ٹی آئی ارکان سندھ حکومت کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہے۔
دوسری طرف تحریک انصاف جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا نعرہ لگا کر جنوبی پنجاب کے 11اضلاع سے بھرپور کامیابی حاصل کر کے وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو برسراقتدار آئے 22ماہ سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے لیکن جنوبی پنجاب صوبہ یا منی سول سیکرٹریٹ قائم کرنے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی جس کے باعث تحریک انصاف کے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین کی اکثریت پارٹی قیادت سے نالاں نظرآتی ہے۔جس کے باعث جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین اور سرکردہ سیاسی خاندانوں کے افراد جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے لئے سرگرم ہوگئے ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت پر جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کیلئے دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ہے۔
اس سے پہلے تحریک انصاف صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے مبینہ طور پر صوبے کے وزیر اعلٰی محمود خان کے خلاف گروپنگ کرنے کی پاداش میں تین صوبائی وزرا کو کابینہ سے برطرف کیا جاچکا ہے،برطرف کیے جانے وزرا میں سینیئر صوبائی وزیر برائے کھیل اور ثقافت محمد عاطف خان، وزیر صحت شہرام خان ترکئی اور وزیر برائے محصولات شکیل احمد شامل ہیں۔ خفیہ سرگرمیوں پر تینوں وزراء سے ناراضی بڑھی۔ حیات آباد اجلاس میں شہرام ترکئی کی زیرِ صدارت 8 ارکینِ اسمبلی نے شرکت کی تھی، ذرائع کے مطابق تینوں وزراء پریشر گروپ کے کرتا دھرتا تھے۔
تحریک انصاف حکومت پر تنقید ہوتی رہی ہے کہ کابینہ میں اختلافات کی وجہ سے کارکردگی متاثر ہورہی ہے، منتخب افراد کی لڑائی کی وجہ سے بیوروکریسی مضبوط ہورہی ہے،وزیراعظم عمران خان کی انتخابات کے بعد ٹیم کچھ تھی اب کچھ اور ہے اس پر بھی اعتراض ہوتا رہا،اپنی22 ماہ کی حکومت میں وزیراعظم نے متعدد مرتبہ اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے اور صرف ایسے ہی افراد کو کام کرنے کی اجازت دیں گے جو کام کر کے دکھائیں گے، لیکن پی ٹی آئی کی زیر قیادت حکمران اتحاد کی پارلیمنٹ میں معمولی اکثریت انہیں اجازت نہیں دیتی کہ وہ کارکردگی نہ دکھانے والوں کیخلاف سخت ترین اقدام کر سکیں۔ اہم پورٹ فولیوز غیرمنتخب افراد کے پاس چلے گئے۔عمران خان کہتے تھے کہ 20ارکان کی کابینہ ہوگی لیکن ان کی کابینہ میں 51اراکین ہیں، ان میں 27وفاقی وزراء اور 4وزرائے مملکت منتخب اراکین ہیں، پانچ مشیر ہیں تمام غیرمنتخب ہیں، 15معاونین خصوصی میں سے صرف ایک منتخب رکن اسمبلی ہے باقی تمام غیرمنتخب ہیں، کابینہ میں 31افراد منتخب ہیں جبکہ 19غیرمنتخب اراکین ہیں جبکہ اہم پورٹ فولیوز بھی ان کے پاس ہیں، بائیس ماہ بعد عمران خان نے کابینہ میں شامل مشیروں اور معاون خصوصی کو پندرہ جون تک اپنے اثاثے ظاہرکرنے کا حکم دیا۔وزیراعظم عمران خان کابینہ کے کئی وزراء کی کارکردگی اور رویے سے ناخوش ہیں لیکن انہیں برطرف کرنا سیاسی لحاظ سے ان کیلئے ممکن نہیں۔
سیاسی پنڈتوں کا خیال ہیکہ اب دیکھنا یہ ہیکہ ان مشکل حالات میں وزیراعظم عمران خان ملک کی صورتحال کیلئے اپنی توانائیاں بروئے کارلاتے ہیں یا پھر پارٹی کے اندرونی معاملات کو سمیٹنے اور سنبھالنے میں ہی مصروف رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: