کراچی: دہشتگردوں نے جمعہ کی شام سات بج کر 10 منٹ پر کراچی میں پولیس آفس پر حملہ کردیا۔ فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ گولیوں اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آپریشن میں تمام دہشتگرد مارے گئے۔ فورسز نے عمارت کو تقریباً 4 گھنٹے بعد کلیئر کرالیا گیا۔ اہلکاروں سمیت 18 افراد زخمی ہوئے۔
2 پولیس ایک رینجرز اہلکار اور ایک خاکروب سمیت 4 افراد شہید ہوگئے۔ ترجمان رینجرز نے بتایا کوہ عمارت کی کلیئرنس کا آپریشن مکمل کر لیا گیا ۔
گردوں کی جانب سے پانچ سے چھ دستی بم بھی حملے میں استعمال کیے گئے ۔ جاں بحق ہونے والوں میں 35 سالہ اجمل مسیح 50 سالہ پولیس کانسٹیبل غلام عباس جاں بحق ہوئے ۔
رینجرز کے زخمی اہلکاروں میں 35 سالہ عبد الرحیم، 25 سالہ طاہر اور 35 سالہ عمران شامل ہیں۔50 سالہ پولیس کانسٹیبل عبد الطیف، 48 سالہ انسپکٹر عبد الخالق اور 22 سالہ ایدھی رضاکار ساجد بھی زخمی ہوئے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ دہشت گرد پشتو میں گفتگو کر رہے تھے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ایسٹ مقدس حیدر نے بتایا کہ حملے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے، ایک دہشتگردچوتھی منزل پر اور 2 چھت پر ہلاک ہوئے۔ ذرائع نے بتایا کہ کراچی پولیس آفس کی چھت پر دہشتگرد نےخودکو دھماکے سے اڑا لیا۔ 18 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔حملہ آور پولیس لائنز سے داخل ہوئے۔ پولیس کو تیسری منزل پردہشت گردوں کے لائے گئے 3 بیگ ملے، تینوں بیگز میں سے گولیاں اور بسکٹ نکلے۔
آپریشن کے دوران چوتھی منزل پر محصور ڈی ایس پی نعیم اور وسیم سمیت عملے کے متعدد ارکان کو بحفاظت نکالا گیا۔ ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ دہشت گردوں نے 2 سے 3 اطراف سےحملہ کیا تھا۔ عمارت میں 40 سے 50 لوگ موجود تھے۔ دہشت گرد ان دو کاروں میں سوار ہوکر حملے کیلئے پہنچے۔ مراد علی شاہ نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت آپریشن میں حصہ لینے والوں کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہاکہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں اور افسران نے بڑی جرئت اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ ترجمان سندھ حکومت و مشیر قانون مرتضی وہاب نے کہاہے کہ کے پی او بلڈنگ پر حملہ آور دہشتگردوں کا خاتمہ کردیا گیا ہے اورکے پی او کی عمارت کو کلیئر کرا لیا گیا ۔
ان کا کہنا ہے کہ تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ وقوعہ پر دو طرفہ شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ وقفے وقفے سے دھماکے بھی ہورہے ہیں۔ شاہراہ شارع فیصل کے انتہائی حساس علاقے میں قائم کراچی پولیس کے دفتر پر دہشت گرد پولیس کی وردی میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔
عینی شاہدین کے مطابق دہشت گرد جس کار میں آئے وہ صدر پولیس لائن کے احاطے میں کھڑی ہے، صدر پولیس لائن کے احاطے میں کھڑی کار کے چاروں دروازے کھلے ہوئے ہیں۔واقعے کے بعد علاقے کو سیل کردیا جبکہ شاہراہ فیصل کو عام ٹریفک کیلیے بند کیا گیا ، دفتر کی بجلی بھی منقطع کردی گئی۔ پولیس کمانڈوز، رینجز اور پاک فوج کے دستے بھی کلیئرنس آپریشن کیلیے پہنچے تھے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا پولیس وردی میں ملبوس 8 سے 10 دہشتگرد کے پی آفس میں داخل ہوئے تھے۔ کچھ عقبی دروازے اور کچھ مرکزی دروازے سے داخل ہوئے۔ فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ دریں اثنا وزیر اعلی سندھ پولیس ہیڈ آفس میں قائم کنٹرول روم میں بیٹھ کر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کومانیٹر کرتے رہے۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کراچی پولیس چیف کے دفتر پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کی اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور ایکشن کیلیے خصوصی فورس بھیجنے کا بھی حکم دیا۔ کامران ٹیسوری نے کہا کہ دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ پولیس اور رینجرز تیار ہیں ، دہشت گردوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ حملے پر رد عمل دیتے ہوئے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ قانون نافذ کرنیوالے ادارے ان کا برا حشر کریں گے۔
وفاقی وزیرداخلہ راناثنااللہ نے کہاہے کہ پشاور دھماکے کے بعدحملے کے خدشات تھے،کراچی پولیس ہیڈ آفس پر حملے کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہوسکتا ہے، سب کو پتا ہے کون لوگ ملوث ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کراچی پولیس آفس پر دہشتگردوں کے حملے کانوٹس لے لیا۔وزیراعظم نے وزیرداخلہ راناثنااللہ اورصوبائی حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔
وزیراعظم نے سکیورٹی اداروں کودہشتگردوں کیخلاف منظم آپریشن کی ہدایت کی۔ شاہراہ فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس پر حملے کے بعد شارع فیصل میٹروپول سے نرسرسی تک اور اطراف کی تمام سڑکیں ٹریفک کیلئے بند کردی گئیں۔ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کا کراچی پولیس آفس پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی۔
