واشنگٹن: جریدے نیوز ویک کی رپورٹ کے مطابق افغانستان سے امریکہ کے افراتفری سے نکلنے اور طالبان کی حکمرانی کی واپسی کے بعد سے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے کہ چین نے اُس خطے میں اپنا اثرورسوخ اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ آہستہ آہستہ امریکہ کے اتحادی ممالک بھی چین کی جانب رُخ کر رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں چینی سرمایہ کاری میں اضافے نے بائیڈن انتظامیہ کو پریشان کر رکھا ہے۔ دہشت گرد تنظیم داعش نے طویل عرصے سے افغان طالبان سمیت دیگر گروپوں کی صفوں میں شامل ہو کر بڑی کامیابی حاصل کی ہے، ساتھ ہی ٹی ٹی پی نے پشتو اور فارسی زبان کی اشاعتوں میں اضافے کے علاوہ دیگر زبانوں میں پمفلٹ جاری کر کے لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کی ہیں۔
بلوچستان میں تحریک طالبان پاکستان کا اثرورسوخ حیران کن حد تک بڑھا ہے جو مستقبل میں پاکستان کے لیے بڑے خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں چینی سفارتخانے کے ترجمان لیو پینگیو نے نیوز ویک کو بتایا کہ اس وقت بین الاقوامی دہشت گردی تمام ممالک کے لوگوں کی سلامتی اور سماجی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے۔
چین ہر قسم کی دہشت گردی کی سختی سے مخالفت کرتا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان اور دیگر ممالک کی حکومتوں اور عوام کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
