جے آئی ٹی نے شریف خاندان کو سوال نامہ بھیج دیا

اسلام آباد: پاناما پیپرز کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی ) نے وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹے حسن نواز اور حسین نواز کو سوالنامہ بھیج دیا۔

اس تحقیقات سے آگاہ ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیاء کی سربراہی میں بننے والی اس جے آئی ٹی نے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف اور انکے بیٹوں کو اپنا بیان جمع کرانے کے حوالے سے بھی خط لکھا ہے۔

تاہم جے آئی ٹی چاہتی ہے کہ وزیراعظم اور انکے بیٹے اپنا باقاعدہ جواب جمع کرانے سے قبل اس سوال نامے کا جواب دیں۔

بدھ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر مملکت طارق فضل نے دعویٰ کیا تھا کہ جے آئی ٹی نے اب تک وزیر اعظم سے سوال کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ انہیں وزیر اعظم کو جاری ہونے والے خط کی اطلاع نہیں ہے لیکن اگر ایسا کوئی مطالبہ کیا گیا تو وزیر اعظم اس معاملے میں مکمل تعاون کریں گے۔

وزیر اعظم کی قانونی ٹیم میں موجود ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ جے آئی ٹی کی جانب سے جاری پاناما پیپرز کی تحقیقات کے سلسلے میں وزیر اعظم اور ان کے بیٹوں نے اپنے وکلا سے رابطوں کا آغاز کردیا ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اب تک کم از کم ملک کے چار بڑے وکلا سے رابطہ کیا جاچکا ہے اور وزیر اعظم اور ان کے بیٹے جے آئی ٹی کے سامنے اپنے جوابات جمع کرانے کے لیے قانونی ٹیم کی تجاویز پر عمل کریں گے۔

وزیر اعظم کے بیٹے حسین نواز نے اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد جے آئی ٹی میں موجود دو ممبران کی شمولیت پر اعتراضات اٹھائے تھے اور ایپکس کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کر کے ان ممبران کی جے آئی ٹی میں شمولیت کو چیلنج کر دیا تھا۔

اپنی درخواست میں حسین نواز نے استدعا کی تھی کہ خوش اسلوبی کی خاطر اسٹیٹ بینک پاکستان کے عامر عزیز اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے بلال رسول کو جے آئی ٹی سے درستبردار ہو جانا چاہیے۔

ان دونوں ممبران میں سے ایک سابق صدر پرویز مشرف کے قریبی دوست ہیں جبکہ دوسرے سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کے قریبی رشتہ دار ہیں۔

اُمید کی جارہی ہے کہ 29 مئی کو سپریم کورٹ کا عمل درآمد بینچ حسین نواز کی درخواست پر سماعت کرے گا۔

سوال نامہ

یہ سوال نامہ گذشتہ ماہ 20 اپریل کو سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما فیصلے کے بعد بنائی جانے والے جے آئی ٹی کو دیے جانے والے 13 سوالوں پر مشتمل ہے۔

گلف اسٹیل مل کس طرح وجود میں آئی؟ اس کی فروخت کی کیا وجہ بنی؟ اس کے واجبات کا کیا ہوا؟ کس طرح وہ جدہ، قطر اور برطانیہ پہنچے؟ کیا حسین اور حسن نواز کے 1990 سے قبل فلیٹ کی ملکیت یا اس کی خریداری کے حوالے سے کوئی کردار ہے؟ کیا حامد بن جاسم بن التھانی کا خط افسانہ ہے یا حقیقت۔۔۔۔ نیلسن انٹرپرائزیز لمیٹڈ اور نیسکول لمیٹڈ کا اصل مالک اور فاہدہ حاصل کرنے والا کون ہے؟ ہل میٹل اسٹیبلمنٹ کیسے موجود میں آئی؟ فلیگ شپ انویسمنٹ لمیٹڈ اور دیگر کمپنیز کے قیام کیلئے وزیراعظم کے بیٹوں کے پاس سرمایہ کہا سے آیا؟ اور کروڑوں مالیت کے تحائف جو حسین نواز کی جانب سے نواز شریف کو دیئے گئے تھے اس کیلئے اتنی بڑی رقم کہاں سے آئی؟

ذرائع کے مطابق اس سوال نامے میں پوچھا گیا ہے کہ جدہ میں پہلے سے موجود فیکٹری کو بیچ کر جدہ میں اسٹیل کا کاروبار کس طرح شروع کیا گیا؟

اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا تھاکہ جدہ کی فیکٹری کو فرخت کرکے لندن کے اثاثے خریدے گئے۔

جے آئی ٹی نے اب تک وزیراعظم کے کزن میاں طارق شفیع، سابق چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) ریٹائر لیفٹیننٹ جنرل منیر حفیظ اور ایک صحافی عمر چیمہ کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں۔


یہ رپورٹ 25 مئی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

اپنا تبصرہ بھیجیں: