پاناما کیس: حسین نواز کی جے آئی ٹی کے سامنے دوسری پیشی

پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز منگل کو پاناما لیکس کے معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔

یہ گذشتہ تین دن کے دوران دوسرا موقع ہے کہ اس جے آئی ٹی نے انھیں طلب کیا ہے۔

اتوار کو پہلی پیشی کے بعد تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے حسین نواز کو ایک سوالنامہ دیا گیا تھا اور انھیں اگلی پیشی پر اس سے متعلقہ دستاویز ساتھ لانے کے لیے کہا گیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق منگل کو حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے اپنے وکیل کے ہمراہ پیش ہوئے تاہم جوڈیشل اکیڈمی میں موجود ایک پولیس اہلکار کے مطابق وزیر اعظم کے صاحبزادے کے وکیل کو الگ کمرے میں بٹھایا گیا۔

حسین نواز کی پیشی کے موقع پر حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی مقامی قیادت اور کارکن بڑی تعداد میں اکیڈمی کے باہر موجود تھے تاہم جونھی وزیراعظم کے صاحبزادے اکیڈمی کے اندر گئے مقامی قیادت اور کارکن واپس چلے گئے۔

وزیراعظم نواز شریف کے پولیٹیکل سیکرٹری آصف سعید کرمانی نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حسین نواز اس جے آئی ٹی میں شامل دو افراد پر تحفظات کے باوجود پیش ہوئے ہیں۔

اُنھوں نے دعوی کیا کہ حسین نواز وہ تمام دستاویز ساتھ لائے ہیں جو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے پہلی پیشی کے موقع پر طلب کی تھیں۔

واضح رہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کی نگرانی کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حسین نواز کی طرف سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں شامل دو ارکان پر جن میں سکیورٹی اینڈ سٹاک ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے بلال رسول اور سٹیٹ بینک کے عامر عزیز شامل ہیں، اعتراضات کو مسترد کردیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ محض شکوک وشہبات کی بنا پر کسی بھی رکن کو جے آئی ٹی سے الگ نہیں کیا جا سکتا تاہم عدالت نے جے آئی ٹی کے ارکان کو حکم دیا ہے تفتیش کے لیے پیش ہونے والے کسی بھی شخص کے ساتھ ناروا سلوک نہ رکھا جائے اور نہ ہی اُنھیں ڈرایا دھمکایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: