آفشور کمپنی بنانا غلطی تھی، عمران کے وکیل کا عدالت میں‌ اعتراف

پاکستان تحر یک انصاف کے سربراہ کی نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواستوں کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل نے تسلیم کیا ہے کہ اُن کے موکل کی طرف سے آف شور کمپنی نیازی سروسز کو اثاثوں میں ظاہر نہ کرنا ایک غلطی تھی تاہم ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔

بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کے مطابق عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ آف شور کمپنی کا معاملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے پاس ہے اور جب تک اس کا فیصلہ نہیں ہوتا اس وقت تک ان کے موکل کی نااہلی کا معاملہ سپریم کورٹ میں نہیں لایا جا سکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر اُن کے موکل کی طرف سے ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے یا ٹیکس ادا نہ کرنے کا معاملہ ہوتا تو پھر ان کے موکل کی نااہلی کا معاملہ زیر بحث لایا جا سکتا تھا۔

بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما حنیف عباسی کی طرف سے اثاثے چھپانے پر عمران خان کو نااہل قرار دینے سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے دوان اس تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس فیصل عرب نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آف شور کمپنی کو ظاہر نہ کرنا غلطی ہے جبکہ اس سے پہلے آپ نے موقف اختیار کیا تھا کہ آف شور کمپنی ظاہر کرنا ضروری نہیں تھا اور اس طرح تو وہ اپنے دلائل کی خود نفی کر رہے ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ آف شور کمپنی بنانے سے ٹیکس بچانے کے علاوہ اور کیا فوائد ہوتے ہیں جس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ کمپنی بنانے کا مقصد ’کیپیٹل گین ٹیکس‘ بچانا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 2015 میں نیازی سروسز کمپنی خود بخود ختم ہو گئی تھی۔

بینچ میں موجود جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ جب نیازی سروسز کی صرف ایک ہی پراپرٹی تھی جو کہ لندن فلیٹ تھی اس کے علاوہ اس میں عمران خان کی بہنوں کا کوئی مفاد نہیں تھا تو پھر اس کو اتنی دیر زندہ کیوں رکھا گیا؟ اس پر عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ چونکہ لندن فلیٹ کا معاملہ عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت تھا اس لیے اس کمپنی کو زندہ رکھا گیا۔

عدالت کے استفسار پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ آف شور کمپنی کا ریکارڈ عام نہیں کیا جاتا۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کے وکیل سے پوچھا کہ بنی گالہ کی اراضی کی خریداری میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کی سابق اہلیہ جمائمہ خان کی طرف سے جو رقم بھجوائی گئی ہے اس کی منی ٹریل نامکمل ہے تو پھر عدالت اس پر کیسے انحصار کرے جس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ جونہی ان کے پاس ثبوت آئیں گے وہ عدالت میں جمع کروا دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: