کراچی : سندھ ہائی کورٹ نے بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز پر سندھ حکومت، آئی جی سندھ کو 12 اپریل تک جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے خلاف دائر درخواست پرایڈووکیٹ جنرل، پراسیکیوشن آفس نے جواب کے لیے مہلت طلب کرلی۔
سرکاری وکلا کا کہنا تھا کہ
سندھ حکومت اور آئی جی کی جانب سے جواب جمع کرانا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل مزمل ممتاز ایڈووکیٹ کے مطابق اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں مُسلسل اضافہ ہورہا ہے، ڈاکو عوام کو لوٹ مار کے دوران قتل بھی کردیتے ہیں،لوٹ مار کے دوران روزانہ شہریوں کو قتل کیا جاتا ہے، پولیس جرائم کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکی ہے,خواتین کے پرس ،موبائل چھیننے کی وارداتوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے،کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی صورتحال قابو سے باہر ہو چکی ہے,پولیس سی پی ایل سی سے بروقت رابطہ نہیں کرتی,مذاحمت پر روزانہ کی بنیاد پر شہریوں کوقتل کیا جارہا ہے۔
ان کا موقف تھاکہ اداروں کے درمیان باہمی رابطہ نہ ہونے کا فائدہ ملزمان کو ہوتا ہے،موبائل چھیننے کے مقدمات بھی سی ٹی ڈی اور ایس آئی یو کو دیئے جائیں۔
درخواست میں چیف سیکرٹری ،ہوم سیکرٹری سندھ، پولیس حکام ،ایف آئی اےب سمیت دیگر ادارے فریق گیا ہے۔سی پی ایل سی اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے۔
