Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اسمبلی اقدام کیخلاف عدالتی فیصلہ مقننہ کے اختیار میں مداخلت ہے ، مرادعلی شاہ | زرائع نیوز

اسمبلی اقدام کیخلاف عدالتی فیصلہ مقننہ کے اختیار میں مداخلت ہے ، مرادعلی شاہ

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت ترقی کرے گااور پھلے پھولے گاجب مملکت کے تینوں ستون مقننہ،انتظامیہ اور عدلیہ اپنے آئینی دائرے میں رہ کر کام کریں گے، ایک دوسرے کے دائرہ کار میں مداخلت نے نہ صرف ملک کی حقیقی ترقی کو متاثر کیا ہے بلکہ بگاڑ کو جنم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اپوزیشن ارکان کی جانب سے پری بجٹ اجلاس میں دی گئی سفارشات پر غور کرنے کی قرارداد پیش کی،قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔

جمعہ کو اسمبلی فلور پر اپنی پری بجٹ تقریر کے اختتامی خطاب میں مراد شاہ کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلی نے قانون سازی کے ذریعے گمبٹ انسٹی ٹیوٹ کا نام تبدیل کرکے پیر عبدالقادر شاہ جیلانی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز رکھا لیکن عدالت نے اسے کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالتیں ایسی قانون سازی کو کالعدم قرار نہیں دے سکتیں۔میں نے سندھ کے تمام محکموں کو ایسے عدالتی فیصلوں کی فہرست تیار کرنے کی ہدایت کی ہے جو مقننہ کے دائرہ کار میں مداخلت کے مترادف ہیں۔مرحوم پیر عبدالقادر شاہ جیلانی پانچ بار ایم این اے اور وفاقی وزیر کی حیثیت سے اس صوبے کی خدمت کر چکے ہیں ان کے نام پر ایک ادارے کو وقف کرنا انکی خدمات کا اعتراف ہے اور یہ اسمبلی نے کیا ہے اس لئےاسے تبدیل نہیں کیاجاسکتا۔ معزز جج صاحبان صوبائی چیف سیکرٹریوں،پولیس سربراہان اور دیگر افسران کو طلب کر رہے ہیں اور دھمکی دی ہے کہ وہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کریں ورنہ ان کے وزرائے اعلیٰ کو طلب کیا جائے گا۔

مراد شاہ کے مطابق،یہ کوئی طریقہ نہیں بلکہ انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت ہے۔ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بےنظیر بھٹو کو عمران خان کے ساتھ ملانا اس ملک کی تاریخ اور بہادر لیڈروں کے ساتھ ناانصافی ہوگی، بھٹو نے کہا تھا کہ وہ اس ملک کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کیلئے تیار ہیں وہ اپنے بچوں کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے جو انہوں نے کرکےدکھایا،دوسری طرف ایک فاشسٹ جماعت کا لیڈر اپنی حفاظت کیلئے اپنے معصوم کارکنوں کو ڈھال بنا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ محترمہ بینظیر بھٹو جانتی تھیں کہ وطن واپسی پر انہیں قتل کردیا جائے گا لیکن وہ پھر بھی پاکستان واپس آئیں،عمران خان کے پاس کوئی عقل نہیں،سیاسی دانشمندی نہیں اور نہ ہی وہ کسی کی عزت کرتے ہیں۔