تحریک انصاف کے خلاف کریک ڈائون شروع،شبلی فرازاور شفقت محمود کے گھروں پر چھاپے

لاہور ،اسلام آباد :پی ٹی آئی قائدین اورکارکنوں کیخلاف کریک ڈائون شروع کردیاگیا۔اسلام آباد پولیس نے سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف اسٹاف سینیٹر شبلی فراز اور شفقت محمود کے گھروں پر چھاپے مارے۔ پولیس نے شبلی فراز کے گھر کی تلاشی لی، شبلی فراز گھر پر نہیں تھے۔ گھر پر چھاپے کے دوران خواتین اہلکار بھی پولیس ٹیم کے ہمراہ تھیں۔ چھاپے کے دوران شفقت محمود بھی گھر پر موجود نہیں تھے ۔
ذرائع کے مطابق سینیٹر شبلی فراز تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمے میں نامزد ہیں۔اس سے قبل جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مظاہرین کی جانب سے پولیس پر حملے کے معاملے پر پولیس نے 7 مزید ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ تھانہ شالیمار پولیس نے اشتعال انگیزی میں ملوث 7 مزید ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے،ملزمان میں راجہ ندیم جہانگیر کیانی، شرافت سلطان کیانی شامل ہے۔
پولیس نے سینئررہنما اور سابق چیئرمین اوورسیز پاکستانی کمیشن ڈسٹرکٹ لاہورعلی نویدبھٹی،ٹائون شپ میں پی ٹی آئی رہنماایڈووکیٹ جمیل سلیم کے گھروں پرچھاپے مارے،رائیونڈمراکہ کے علاقے میں فیصل الہی کوگرفتارکرلیاگیا،پی ٹی آئی رہنما ؤں صادق نعیم اللہ اور بابر کے بھائی کو گرفتار کرلیا گیا ، ارشاد ڈوگر، وقاص اسلم اور چودھری آصف ،ظہیر فوجی شیخ نفیس ، حمزہ بٹ ،حاجی اصغر ،حاجی اللہ رکھا اور حماد اعوان کے گھروں پربھی چھاپے مارے گئے۔سپیشل برانچ نے لاہور پولیس کوتمام پی ٹی آئی رہنمائوں،عہدیداروں اورکارکنوں کی لسٹیں جاری کردیں۔
68صفحات پر مشتمل لسٹ سامنے آگئی ہیں جن میں عہدیداروں کے نام،ایڈریس،موبائل نمبر،تھانے کی حدوداورکیٹیگری شامل ہے۔ پنجاب پولیس نے زمان پارک کے باہر ہنگامہ آرائی کے بعد شاہ محمود ، حماد اظہر اور یاسمین راشدکوبھی گرفتارکرنے کافیصلہ کرلیا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ رہنما ہنگامہ آرائی میں ملوث کارکنوں کی حوصلہ افزائی اور پارٹی کو فنانسنگ فراہم کررہے ہیں۔پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان میں محمد رضوان، سہیل احمد، حسنین اختر، مظہر مسعود، محمد زرین بھی شامل ہیں۔
عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد عدالت پیشی پرتوڑپھوڑ کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کرلیا گیا، پی ٹی آئی کے 50 کے قریب گرفتار ورکرزاور مطلوب رہنماؤں پرمقدمہ دہشتگردی سمیت 10 جرائم کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا، مقدمے میں علی امین گنڈاپور، مراد سعید، عامرکیانی، اسد قیصر، شبلی فراز، اسد عمر، عمر ایوب، علی اعوان اور حسان نیازی سمیت 17 رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ۔
ایف آئی آر کے مطابق پولیس چیک پوسٹ کو نقصان پہنچایا گیا، جوڈیشل کمپلیکس کا مین گیٹ اور شیشے توڑے گئے، جلاؤ گھیراؤ، پتھراؤ اور جوڈیشل کمپلیکس کی عمارت کی چیزیں توڑنے والے ملزمان گرفتار کیےگئے، پولیس کی 2 گاڑیوں،7 موٹر سائیکلوں کو جلایا گیا، ایس ایچ او گولڑہ کی سرکاری گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا، پستول، 20 ہزار روپے، 8 پولیس ملازمین کی اینٹی رائٹ کٹ چوری کی گئیں۔ جوڈیشل کمپلیکس ہنگامی آرائی کیس میں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما امجدخان نیازی سمیت تمام 60 ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دیدیا۔ ڈیوٹی مجسٹریٹ ملک امان نے سماعت کی۔ پولیس کی جانب سے 60 ملزمان کا ریکارڈ پیش کیا گیا جبکہ پی ٹی آئی وکلا بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
پی ٹی آئی وکلا کی جانب سے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کی استدعا کی گئی،سابق ایم این اے امجد نیازی کو بھی عدالت پیش کیا گیا، امجد نیازی نے تشدد کے نشانات عدالت میں دکھائے، وکلا نے امجد نیازی کا میڈیکل کرانے کی بھی استدعا کی۔عدالت نےپولیس کو شدید زخمی افراد کا پمز سے میڈیکل کرانے کا حکم دیا۔دریں اثناء جوڈیشل مجسٹریٹ لاہور نے پولیس کی جانب سے زمان پارک میں کئے گئے آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والے 102 ملزمان کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر کے پولیس کے حوالے کر دیا۔ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ غلام رسول نے پولیس کی درخواست پر سماعت کی۔عدالت نے ملزمان کو آج انسداد دہشتگردی عدالت پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔
تحریک انصاف نے زمان پارک میں آپریشن کرنیوالے پولیس افسران کیخلاف کارروائی کیلئے درخواست دیدی۔چیف آرگنائزرمسلم لیگ ن مریم نواز اور وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کیخلاف مقدمے کے اندراج کیلئے تھانہ ریس کورس میں درخواست جمع کرادی گئی،نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی اور آئی جی پولیس ڈاکٹر عثمان کو بھی مقدمے میں نامزد کردیاگیا،مقدمے کی درخواست عمران خان کی رہائشگاہ کےنگران اویس احمد کی جانب سے دی گئی۔
سی سی پی او لاہوربلال صدیق کمیانہ ، ڈی آئی جی آپریشنزافضال کوثر اور ایس ایس پی آپریشنز صہیب اشرف ،سی آئی اے ہیڈکوارٹرز اور صدرکے ایس پیزملک لیاقت،عبدللہ لک اورعظیم کھرل بھی مقدمے میں نامزدکئے گئے ،درخواست میں زمان پارک کے گارڈز کے لائسنس شدہ اسلحے کی تفصیلات بھی لف کی گئی ہیں،آپریشن کے دوران اٹھائے جانے والے قیمتی سامان کی تفصیلات بھی مہیا کردی گئیں۔