کراچی:متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفیٰ کمال نے کہاہے کہ صبر کی انتہا ہوگئی، اب ظلم پر مزاحمت کریں گے،سندھ حکومت شہری علاقوں کی نسل کشی کررہی ہے پہلی بار مردم شُماری درست ہورہی ہے تو پی پی پی آل پارٹیز کانفرنس بلواکر قوم پرستوں سے گالیاں دلوارہی ہے، آج کے اس پاکستان میں آپ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ مہاجروں کو دبادیں گے تو یہ آپ کی بھول ہے کیونکہ ہم جتنا کھو سکتے تھے کھو چکے ہم اب مرنے سے نہیں ڈرتے،سندھ حکومت نے اگرقوم پرستوں کے ساتھ ملکر کسی قسم کی ڈرامے بازی کی تو پھر آپ بھی یہ سمجھ لیں کہ آپ کو کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، گزشتہ روز 18 مارچ کو ایک کیو ایم نے یوم تاسیس پر کراچی کے سب سے بڑے گراونڈ میں عظیم الشان جلسہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک ایسے دور میں جہاں ہر وقت ہیجان کی کیفیت ہے، کچھ ایسے لوگ ہر وقت ٹی وی اسکرینز پر ہیں پی ایس ایل کا فائنل سمیت تمام چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے کامیاب جلسہ کیا، اپنے کارکنوں کے بعد کراچی کی عوام کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں عوام نے ایک دفعہ پھر گزشتہ روز مینڈیٹ دیا ہے، ماوں بہنوں نے کل جلسہ گاہ میں آکر ہمیں گنوایا ہے جس کے ہم شکر گزار ہیں انکا کہنا تھا کہ آج بھی کراچی سندھ کی تمام عوام کی فکر کرتے ہیں، 15 سال سے پی پی پی کی حکومت ہے ایک قطرہ پانی نہیں آیا چار سال پی ٹی آئی حکمران رہی لیکن تنکے برابر کام نہیں کیا ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بہادرآباد سے متصل پارک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہم پر الزام ہے ہم حکومتوں میں رہے ہم نے کوئی مسلح جھتے تو نہیں بنارکھے، ایم کیو ایم کی نظر میں دو قومیں ہیں ایک ظالم اور دوسری مظلوم، ہمیں اب اپنے بچوں کی عملی جدوجہد کے لئے آگے آنا ہوگا، ہر کسی کو اپنی آواز ظالم حکمرانوں تک پہنچانی ہے اگر آج کے نامساعد حالات سے نمٹنا ہے تو ہمیں دور حاظر کے حساب سے چلنا ہوگا،ہمیں اب ملکر اپنے بچوں کے مستقبل کو بچانے کے لیے میدان عمل میں آنا ہوگا، ہمیں اب ٹوئٹر پر اپنے مسائل کے حل کے لیے ٹرینڈ چلانے ہوں گے۔
ان کاکہناتھاکہ پاکستان میں اب ٹاپ ٹرینڈز فیصلے کرتے ہیں ہمیں پیسے جمع کرکے موبائل فونز خرید نے ہوں گے،پچھلے چار روز سے کراچی اسٹینڈ وتھ ایم کیو ایم ٹرینڈ چل رہا ہے کراچی والوں نے بتادیا وہ ایم کیو ایم کے ساتھ ہیں اگر ہم اپنے مسائل کو اس طرح حل نہیں کرواسکتے تو پھر ہمیں رونا گانا نہیں چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں گننے سے ڈرنے والے یہ بتائیں کہ ہم پھر کس درجے کے پاکستانی ہیں قیام پاکستان کے لئے 20 لاکھ جانوں کا نذرانہ دینے والوں کو بتایا جائے کہ ہمیں کیوں درست شمار نہیں کیا جاتا اور ریاست پاکستان ہمیں اپنے آئین میں تحفظ فراہم کرے اب جو بھی وزیر اعظم بنے گا وہ اسے پہلے ہمارے بنائے گئے مسودے پر عمل کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ صنعت کاروں تاجروں اور اورسیز پاکستانیوں کی جائز زمینوں پر قبضہ کیا جارہاہے یہ ظلم اب بند ہونا چاہیے اور صنعت کار اور تاجر اس ظلم سے تنگ آکر کہہ رہے ہیں کے ہمیں اجازت دی جائے کہ ہم اپنی سرمایہ کاری اس ملک سے باہر لے کر جائیں جو کہ حکومت وقت کے منہ پر تماچہ ہے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت گوٹھ آباد کو لیز دےکر اپنے لوگوں کو بٹھاکر کر کراچی کی زمینوں پر قبضہ کررہی ہے اس سے بڑی بدنیتی کیا ہوگی انہوں نے میڈیا کے ساتھیوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جو ہر ظلم میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور ہماری آواز کو عوام تک پہچاتے ہیں۔
اس موقع پر ان کے ہمراہ سینئر ڈپٹی کنوینئر ڈاکٹر فاروق ستار ڈپٹی کنوینئر انیس قائم خانی و اراکینِ رابطہ کمیٹی موجود تھے۔
