کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے پاکستان پوسٹ آفس کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اراضی پر قبضہ کیخلاف درخواست پر وقت میں کمی کے باعث سماعت ملتوی کردی۔
ہائیکورٹ میں پاکستان پوسٹ آفس کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اراضی پر قبضہ کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ محکمہ ریونیو کے وکیل نے موقف دیا کہ گوٹھ آباد کی زمین پر ہزار ہزار گز کے بنگلے بنادیئے گئے ہیں۔ قابضین کے پاس مالکانہ حقوق ہے نا قانونی دستاویزات۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا تھا کہ سپریم کورٹ کا حکم ہے اربن علاقوں میں گوٹھ آباد نہیں کیا جاسکتا۔ پوسٹ آفس سوسائٹی کی 65 ایکڑ زمین پر قبضہ ہوچکا ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر شرقی نے بتایا کہ سوسائٹی نے زمین خریدی تھی جو دیہی علاقے سے ملحقہ ہے۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ حکام مصنوعی آپریشن کرتے ہیں۔
پلاننگ کے تحت آپریشن ناکام بنایا جاتا ہے۔ ہماری زمینوں پر عبداللہ غازی گوٹھ بنا دیا گیا۔
عدالتی وقت کی کمی کے باعث سماعت 18 اپریل تک ملتوی کردی۔ سوسائٹی پر قبضے سے متعلق رپورٹ محکمہ بورڈ آف ریونیو رپورٹ جمع کراچکا ہے۔
