ایران، پارلیمنٹ پر فائرنگ اور امام خمینی کے مزار پر خود کش حملہ

ایرانی پارلیمنٹ پر فائرنگ اور امام خمینی کے مزار پر خودکش حملے میں 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں 3 مسلح حملہ آوروں نے پارلیمنٹ میں گھس کر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں گارڈ ہلاک اور 5 افراد زخمی ہوگئے۔

ایرانی رکن اسمبلی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تین مسلح افراد نے اسمبلی کی حفاظت پر تعینات گارڈ کو گولی مارنے کے بعد ارکان اسمبلی کو یرغمال بنانے کی کوشش کی۔

ایرانی پارلیمان

پارلیمنٹ پر فائرنگ کے دوران ہی تہران کے جنوبی علاقے میں واقع آیت اللہ خمینی کے مزار پر کم از کم 3 حملہ آوروں نے دھاوا بولا۔ ان میں سے دو نے زائرین پر فائرنگ کی جبکہ تیسرے نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔

ایران

ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ کرنے والی ایک عورت تھی۔  اس واقعے میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ سیکورٹی اہلکاروں نے مزار سے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کرتے ہوئے ایک بم کو ناکارہ بنادیا۔

واقعے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی جب کہ حملہ آوروں کی شناخت اور مقاصد واضح نہیں ہوئے ہیں۔

ایران کی ایرب نیوز ایجنسی نے پارلیمان کے ایک رکن الیاس حضراتی کے حوالے سے کہا ہے کہ پارلیمنٹ پر متعدد افراد نے حملہ کیا جنھوں نے کلاشنکوفیں اٹھا رکھی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ دو حملہ آور کلاشنکوفوں سے مسلح ہیں جبکہ ایک کے پاس پستول تھا۔

خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ حملے میں دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق بظاہر پارلیمان اور مزار پر ایک ہی وقت میں حملہ ہوا۔ تاحال کسی گروپ کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: