کراچی: صوبہ سندھ کے گورنر کامران خان ٹیسوری نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کراچی میں 7ویں مردم و خانہ شماری کے لئے نادرا کے ریکارڈ سے مدد لینے کی تجویز دی ہے کیونکہ مردم و خانہ شماری کے لئے نادرا ریکارڈ اہم ثابت ہوگا۔
گورنرسندھ نے کہا کہ اس وقت کراچی میں ملک کے ہر علاقے کے لوگ آباد ہیں،کراچی میں 7اضلاع اس کی آبادی میں اضافے کی وجہ سے ہی بنائے گئے،گورنر نے کہا کہ ان کا مقصد جاری مردم و خانہ شماری کے عمل کو بہتر بنانا ہے،ملک کے سب سے بڑے اور میٹروپولیٹن شہر کی آبادی و خانہ شماری کے اعداد وشمار کو کم ظاہر کرنا ناقابل فہم ہے، 2017 ءکی مردم و خانہ شماری پر بھی تحفظات رہے، اس لئے 2017کی مردم و خانہ شماری کو قبول نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ شہر کے تمام اسٹیک ہولڈرز نے اسے مسترد کردیا تھا، 2017کی مردم و خانہ شماری پر پورے صوبہ کے تحفظات رہے، درست مردم و خانہ شماری کے لئے آگاہی مہم شروع کی جائے،عملے کی کمی دور اور اس کے وقت میں مناسب اضافہ ہونا چاہئے، آخری فرد اور آخری گھر تک مردم و خانہ شماری کی جائے، مجھے امید ہے کہ میری تجاویز پر غور کیا جائے گا اور اس بار کراچی کی درست مردم و خانہ شماری ہوگی کیونکہ تحفظات دور کرنے کے لئے یہ انتہائی ناگزیر ہے۔
گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری نے 24 ویں رمضان کی سحری گارڈن شو مارکیٹ میں کی۔ علاقہ کے مکینوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، ان کے ساتھ تصاویر اور سیلفیاں بنوائیں۔ گورنر سندھ نے کہا کہ عوام کے درمیان جانے سے ملنے والی مسرت ہر چیز پر غالب ہے۔ عام آدمی کے مسائل حل کرنا کوئی مشکل نہیں ، اس کے لئے ارادے اور اخلاص کی ضرورت ہے۔
کامران ٹیسوری نے کہاکہ گورنر ہاؤس میں گھنٹی لگوا رہا ہوں،عوام اس کو دبا کر اپنا مسئلہ بتا سکتے ہیں،غریب اور متوسط طبقہ کی آبادیوں میں خود جارہا ہوں، اس کا مقصد وہاں کے مکینوں کے مسائل سے ذاتی طور پرآگاہی حاصل کرنا ہے، میرے ایک فون یا خط سے کسی کا کام ہوجا تا ہے تو میں ایسا کرنے کے لئے تیار ہوں۔
