لندن:‌ حملہ آور نے نمازیوں‌ پر گاڑی چڑھا دی، ایک شہید

شمالی لندن میں ایک وین مسجد سے نکلنے والے لوگوں پر چڑھ دوڑی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق ایک وین اس وقت فٹ پاتھ پر چلنے والے لوگوں پر چڑھ دوڑی جب وہ آدھی رات کے قریب سیون سسٹرز روڈ پر فنزبری پارک کی مسجد میں نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے۔

اس واقعے کے بعد ایک 48 سالہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

میٹروپولیٹن پولیس نے کہا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں۔

مسلم کونسل برطانیہ کا کہنا ہے کہ وین ڈرائیور نے ‘جان بوجھ کر’ گاڑی لوگوں پر چڑھا دی۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ ’اسلام دشمنی کا شدت پسندانہ مظہر ہے‘ اور اس نے مساجد کے گرد مزید سکیورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ خاصا مصروف تھا کیونکہ رمضان کے سبب بہت سے لوگ نماز ادا کرنے آئے تھے۔

وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے آج ایک ہنگامی اجلاس بلایا ہے جس میں اس واقعے پر بات کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ پولیس اس واقعے کو ’ممکنہ دہشت گردی قرار دے رہی ہے۔‘

برطانوی وزیرِ اعظم نے اسے ’ہولناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’میری ہمدردیاں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو زخمی ہوئے ہیں اور ان کے عزیزوں کے ساتھ ہیں۔‘

اس سے پہلے تین جون کو لندن برج پر اور اس کے پاس کے علاقے میں لوگوں پر حملہ ہوا تھا جسے پولیس نے شدت پسند حملہ قرار دیا تھا۔

سیون سسٹرز روڈ کے قریب ایک فلیٹ میں رہنے والی عینی نے بی بی سی سے کہا: ‘ہر کوئی چیخ رہا تھا۔ ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ وین نے لوگوں کو ٹکر مار دی ہے۔ لوگ مسجد سے نماز ادا کر کے نکل رہے تھے کہ وین نے انھیں ٹکر مار دی۔’

لندن میٹروپولیٹن پولیس نے کہا ہے کہ سیون سسٹرز روڈ کو بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دیگر ہنگامی خدمات کی تعیناتی کی گئی ہے۔ اس حادثے کی ایک آن لائن ویڈیو میں لوگوں کو زخمیوں کی مدد کرتے ہوئے اور ایک آدمی ایک زخمی کو ہنگامی طبی امداد دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔

لندن ایمبولنس سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر کیون بیٹ نے کہا: ‘ہم نے موقعے پر بہت سی ایمبولنسیں بھیج دی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی طبی ساز و سامان بھی ارسال کر دیا ہے۔’

اپنا تبصرہ بھیجیں: