قطر سعودیہ تنازع:‌ اونٹ نشانہ بننے لگے

قطر کے ساتھ خلیجی ممالک کی کشیدگی کے درمیان سعودی عرب نے کہا ہے کہ قطری اپنے تمام اونٹ اور بھیڑ ان کی چراگاہوں سے لے جائیں۔

جبکہ قطری حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 15 ہزار اونٹ اور 10 ہزار بھیڑیں سرحد پار سے قطر لائے جا چکےہیں۔

قطر میں ان کے لیے ایک عارضی پناہ گاہ بنائی گئی ہے جس میں پانی اور چارے کا انتظام ہے۔

خیال رہے کہ بہت سے قطری اپنے مویشی سعودی عرب میں رکھتے ہیں کیونکہ اس چھوٹے خلیجی ملک میں زیادہ چراگاہیں نہیں ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں سعودی عرب اور ان کے دوسرے کئی اتحادی ممالک نے قطر کے ساتھ اپنے سفارتی اور فضائی رابطے منقطع کرلیے تھے۔ ان ممالک کا الزام ہے کہ قطر شدت پسندی کی حمایت کرتا ہے جبکہ قطر ایسے تمام الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

قطر

میونسپلٹی اور ماحولیات کی وزارت نے کہا ہے کہ عارضی پناہ گاہ اس وقت تک اپنا کام کرے گا جب تک کہ مناسب جگہ تیار نہیں ہو جاتی۔

وزارت نے کہا کہ جانوروں کے ماہرین، ڈرائیور اور دوسرے افراد وہاں پہلے سے موجود ہیں اور وہ مویشیوں کے مالکان کو امداد فراہم کرنے کے لیے مستعد ہیں۔

الریا ویب سائٹ کے مطابق قطر کے سرکاری اہلکار جسیم قطان نے بتایا ہے کہ 25 ہزار اونٹ اور بھیڑیں قطر لائی جا چکی ہیں۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں بڑی تعداد میں اونٹوں اور بھیڑوں کو سعودی عرب کی ریگستانی سرحد کو عبور کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل سعودی عرب میں قطری جانوروں کے چرنے پر کوئی پابندی نہیں تھی لیکن تازہ احکام کے بعد قطر کے مویشی مالکان کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: