مسجد الحرام میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، دہشت گرد ہلاک، تصاویر جاری

سعودی عرب نے مکہ المکرمہ میں جمعہ کی شب دو دہشت گرد کارروائیاں ناکام بنائیں۔ پہلی کارروائی العسیلہ کے علاقے جبکہ دوسری اجیاد المصافی کالونی میں کی گئی۔ اجیاد المصافی ہی کے علاقے میں مسجد الحرام واقع ہے۔

اجیاد کالونی حرم مکہ سے متصل تاریخی علاقہ ہے جسے انتہا پسند اپنے دہشت گرد منصوبے کے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے تاکہ وہاں سے حرم مکی کے کمپلیکس کو نشانہ بنایا جا سکے۔

اجیاد کالونی مسجد حرام سے صرف 800 میڑ کے فاصلے پر ہے، جہاں سیکیورٹی اہلکاروں نے پیشگی کارروائی کر کے دنیا کے مقدس ترین مقام کو دہشت گردی کی تباہ کن کارروائی سے سے بچایا۔

سعودی شہریوں نے سوشل میڈیا پر موبائل کیمروں سے بنائی گئی ویڈیو پوسٹ کیں ہیں جس میں خودکش بمبار مکہ المکرمہ کے پرامن شہر میں خودکش کو دھماکے سے اڑاتا ہے، جس کے بعد اس کے جسم کے ٹکڑے عمارت کے ملبے تلے دبے نظر آتے ہیں۔

اجیاد کالونی میں سال کے ان دنوں میں بہت زیادہ رش ہوتا ہے کیونکہ حرم کے قریب ہونے کی وجہ سے یہ معتمرین اور حجاج کی من پسند جگہ سمجھی جاتی ہے۔ یہاں بہت سے ہوٹل بھی واقع ہیں جہاں زائرین قیام کرتے ہیں۔

وزارت داخلہ

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے اپنے ’ٹوئٹر‘ اکاؤنٹ پر مسجد حرام میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے والے خودکش بمبار کے ٹھکانے کی تصاویر جاری کی ہیں۔

 

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی سازش کا پتہ چلنے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرکے جدہ اور مکہ معظمہ سے ایک مشتبہ خاتون سمیت کم سے کم پانچ دہشت گردوں کو حراست میں لے کر دہشت گردی کی خطرناک سازش ناکام بنا دی ہے۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مکہ معظمہ میں خود کش بمبار کے دھماکے میں عمارت تباہ ہوگئی جب کہ چھ غیر ملکیوں اور پانچ سیکیورٹی اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

 بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ

اپنا تبصرہ بھیجیں:
ہمارے ساتھ شامل ہوں۔