نوازشریف کی‌ حمایت، لیگی کارکن عصمی ملک اغواء، کہانی سامنے آگئی

اسلام آباد: نواز شریف کی وزارتِ عظمیٰ سے نااہلی کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لیے مہم چلانے والے ایک سرگرم سوشل میڈیا کارکن کو پنڈ دادن خان سے اسلام آباد کے سفر کے دوران اغواء کرلیا گیا۔

گمشدگی کا یہ واقعہ جمعہ (4 اگست) کو پیش آیا تاہم تین روز گزرنے کے باوجود بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے مدثر ملک کو بازیاب نہ کراسکے۔

ڈان سے گفتگو میں اغواء ہونے والے مدثر ملک کے 39 سالہ بھائی عابد ملک کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی حکمراں جماعت کے مضبوط حامی تھے اور نواز شریف کی نااہلی میں ملوث عناصر پر تنقید کرتے تھے۔

عابد ملک کے مطابق ان کے بھائی پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے جمعہ کی صبح اسلام آباد کا سفر کررہے تھے جہاں انہوں نے ٹانسلز کے علاج کے لیے ہسپتال جانا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ‘جیسے ہی مدثر کی گاڑی ڈھوکے وینز سے گزری دو سیاہ ڈبل کیبن گاڑیوں نے مدثر کی گاڑی کو روکا اور تین افراد، جن میں سے دو نے ایلیٹ پولیس کا یونیفارم جبکہ تیسرے شخص نے اسلام آباد پولیس کا یونیفارم پہن رکھا تھا، نے مدثر کو گاڑی سے باہر نکلنے کا کہا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘سادہ کپڑوں میں ملبوس مزید پانچ افراد ڈبل کیبنز سے اترے اور زبردستی مدثر کو اپنی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی جس کے بعد انہوں نے پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑی کے ڈرائیور کو اسلام آباد کی جانب سفر شروع کرنے سے قبل 20 منٹ رکنے کی ہدایت دی’۔

عابد ملک کے مطابق ان کے بھائی کا موبائل فون ان کی برابر والی نشست پر موجود تھا اور وہ گاڑی سے اترتے ہوئے فون وہیں چھوڑ گئے تھے جبکہ اسی گاڑی میں ان کا ایک کزن بھی سفر کررہا تھا لہذا مدثر کے اغواء کے بعد اس نے مدثر کا فون اٹھا کر اہل خانہ کو سارے واقعے سے آگاہ کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے بھائی سعودی عرب میں سروے کرتے ہیں اور صرف 20 روز قبل ہی پاکستان آئے تھے۔

عابد ملک کا کہنا تھا کہ ‘میرے بھائی کبھی کسی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث نہیں رہے، ان کی داڑھی نہیں تھی اور نہ ہی وہ کبھی مشکوک سرگرمیوں کا حصہ رہے’۔

انہوں نے بتایا ‘تاہم وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حامی تھے اور نواز شریف کے خلاف سازش کرنے والے عناصر پر تنقید کرتے تھے، وہ سوشل میڈیا پر عصمی ملک کے نام سے فعال تھے’۔

عابد ملک کا کہنا تھا کہ پنڈ دادن خان کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) ملک نثار نے ان سے پیر (7 اگست) کو ملاقات کی جبکہ جہلم کے ضلعی پولیس افسر نے بھی ان سے فون پر کئی سوالات کیے تاہم اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ‘میرے بھائی شادی شدہ تھے اور ان کا ڈھائی سال کا بیٹا ہے، میرے والد 2003 میں انتقال کرگئے تھے جبکہ میری 70 سالہ والدہ بھائی کی گمشدگی پر بہت پریشان ہیں’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم اغواء کاروں سے اپیل کرتے ہیں کہ میرے بھائی کو رہا کردیں کیونکہ وہ کبھی ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوئے، انہوں نے صرف نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، انہیں سوشل میڈیا پر اسٹیبلشمنٹ مخالف سمجھا جاتا ہے لیکن انہوں نے آج تک ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا’۔

عابد ملک نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر فیصلہ سازوں سے بھی درخواست کی وہ ان کے بھائی کی بازیابی میں مدد فراہم کریں۔


یہ خبر 8 اگست 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: