لوئردیر آپریشن: دہشت گردوں‌کا حملہ، پاک فوج کے 4 جوان شہید

پشاور: وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران خود کش دھماکے کے نتیجے میں پاک فوج کے ایک میجر سمیت 4 اہلکار شہید ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لوئر دیر کے علاقے تیمر گرہ میں فورسز نے خفیہ اطلاع پر آپریشن کا آغاز کیا۔

پاک فوج کے مطابق کارروائی کے دوران 3 میں سے ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں ایک میجر اور 3 سپاہی شہید ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ جھڑپ کے دوران ایک دہشت گرد کو ہلاک اور ایک کو گرفتار کرلیا گیا۔

شہید ہونے والے اہلکاروں کے حوالے سے آئی ایس پی آر نے بتایا کہ واقعے میں آپریشن کی سربراہی کرنے والے میجر علی سلمان شہید ہوئے، جن کا تعلق خفیہ ادارے سے تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونے والے دیگر اہلکاروں میں حوالدار غلام نذیر، حوالدار اختر اور سپاہی عبدالکریم شامل ہیں۔

بعد ازاں شہید میجر علی سلمان اور حوالدار اختر کی نماز جنازہ کور ہیڈ کوارٹرز پشاور میں ادا کر دی گئی، جس میں کور کمانڈر پشاور، انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبرپختونخوا اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

ادھر وزیراعظم ہاؤس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے حوالے سے اپنے پیغام میں 4 فوجی اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

پاک فوج کے جانی نقصان پر وزیراعظم نے شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ 17 جولائی کو فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کے سب سے مشکل علاقے راجگال میں پاک فوج نے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے رد الفساد کے تحت آپریشن خیبر فور کا آغاز کردیا۔

بشکریہ ڈان نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں: