عائشہ گلالئی کے گھر کو گھیرنے کی دھمکی

پشاور: وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کی شمالی وزیرستان ایجنسی کے گرینڈ قبائلی جرگے کے ایک رکن نے خبردار کیا ہے کہ اگر رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف لگائے گئے الزامات کے ثبوت پیش نہیں کیے تو قبیلے کے لوگ ان کے گھر کا محاصرہ کرلیں گے۔

گذشتہ روز ایک نیوز کانفرنس کے دوران ملک جلال خان وزیر نے کہا کہ عائشہ گلالئی کا تعلق نہ تو وزیرستان سے ہے اور نہ ہی وہ قبائلی خاتون ہیں، کیونکہ گذشتہ 4 دنوں کے دوران جو کچھ انہوں نے کیا، وہ قبائلی عوام کی روایات کے خلاف ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا، ‘ہم کسی بھی قبائلی خاتون سے اس طرح کے طرز زندگی کی امید نہیں رکھتے، یہ خاتون جنوبی اور شمالی وزیرستان ایجنسی سے ناواقف ہیں کیونکہ وہ قبائلی علاقے کی رہائشی نہیں ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘قبائلی خاندان اپنی بیٹیوں کو کبھی اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ میڈیا یا غیر متعلقہ لوگوں کے سامنے آئیں، لیکن عائشہ گلالئی کے والد شمس القیوم نے انہیں صرف پیسے کے لیے استعمال کیا’۔

جلال وزیر نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر قبائلی لوگوں کو بدنام کرنے پر شمس القیوم کے خلاف انکوائری کی ضرورت پر زور دیا، ان کا کہنا تھا، ‘قبائلی عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ الزامات لگانے کے لیے عائشہ گلالئی نے کتنی رقم حاصل کی’۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے عائشہ گلالئی کے موبائل فون پر نامناسب پیغامات بھیجنے کے بیان سے نہ صرف پختونوں کی بے عزتی ہوئی بلکہ پی ٹی آئی سے وابستہ دیگر خواتین کا وقار بھی کم ہوا۔

قبائلی رہنما نے عائشہ گلالئی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے کسی بھی متعلقہ فورم پر اپنا بلیک بیری پیش کریں، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پر ان کے الزامات سے عوام کے دلوں میں عائشہ گلالئی کی عزت کم ہوگئی۔

جلال وزیر نے رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کی جانب سے غیر ملکی دوروں کے دوران ہسپتال کی تعمیر کے نام پر اکٹھے کیے گئے فنڈز کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ دبئی اور قطر میں فنڈ ریزنگ مہم کے سلسلے میں عائشہ گلالئی کا احتساب ہونا چاہیے۔

ساتھ ہی انہوں نے عائشہ گلالئی سے فوری طور پر قومی اسمبلی کی رکنیت چھوڑنے کا بھی مطالبہ کیا، کیونکہ وہ براہ راست الیکشن کے ذریعے نہیں آئی تھیں بلکہ یہ نشست انہیں تحریک انصاف کی جانب سے دی گئی تھی۔


یہ خبر 5 اگست 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی

اپنا تبصرہ بھیجیں: