سانحہ کوئٹہ کا ایک سال مکمل، چیف جسٹس آبدیدہ

کوئٹہ: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ ماتم کیا ہوتا ہے زندگی میں پہلی مرتبہ 8 اگست 2016 کو دیکھا جب سانحہ کوئٹہ کے شہدا اس ملک میں ایک نئی تاریخ رقم کرگئے۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس 8 اگست کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں خود کش بم دھماکے میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے جن میں بیشتر وکلاء تھے۔

سول ہستال دھماکے کے شہداء کی پہلی برسی پر کوئٹہ میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ میری زبان میرا ساتھ نہیں دے رہی کہ میں سانحہ کوئٹہ کے شہدا کی تعزیت کرسکوں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ زندگی اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا تحفہ ہے، جو چلے جاتے ہیں وہ بھلائے نہیں جاتے، وکلاء نے اپنی جانیں ملک کے لیے قربان کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈگری حاصل کرنے سے وکالت نہیں آتی، وکیل بننے کے لیے وقت لگتا ہے، استاد کی نگرانی میں تجربہ حاصل کرنا پڑتا ہے جبکہ سانحہ کوئٹہ میں بہت سے استاد چلے گئے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تخلیق دو قومی نظریے پر ہوئی، اس ملک کے لیے ہزاروں لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں لیکن دشمن نہیں چاہتا کہ علیحدگی کے بعد بھی یہ ملک خوشحال اور پُرامن ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے تانے بانے ملک کو کمزور کرنے کی سازشوں سے ملیں گے، دہشت گردی کے خلاف جنگ حوصلے سے لڑنی ہے اور اس جنگ میں ہمیں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں کسی نہ کسی حد تک کمی ضرور واقع ہوئی ہے۔

ان سے قبل چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ محمد نور مسکان زئی نے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہدائے 8 اگست کو سلام پیش کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان ایک دہائی سے دہشت گردی کا شکار ہے اور مذموم سازش کے تحت عوام کو نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ حملوں کا مقصد عدالتی نظام کوغیر مستحکم کرنا تھا۔

بلوچستان ہائی کورٹ میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس میں چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار اور دیگر عدالتوں کے معزز جج صاحبان نے شرکت کی۔

سانحہ کوئٹہ پر وکلاء کی ملک گیر ہڑتال

دوسری جانب 8 اگست 2016 کو سول ہسپتال کوئٹہ میں ہونے والے خودکش حملے کو ایک برس مکمل ہونے پر سوگ کا اعلان کرتے ہوئے وکلا برادری نے ملک گیر ہڑتال کی۔

سانحہ کوئٹہ کے خلاف ملک بھر کی وکلا برادری نے عدالتی امور کا بائیکاٹ کیا جبکہ سانحہ کوئٹہ کے سوگ میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کاروباری مراکز بھی بند رہے۔

کوئٹہ کے علاوہ کراچی، حیدرآباد، لاہور سمیت دیگر شہروں کے وکلاء نے بھی عدالتی امور کا بائیکاٹ کیا اور سانحے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے حکومت سے دہشت گردی کے تدارک کے لیے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔

علاوہ ازیں وکلاء رہنماؤں نے حکومت سے سانحے کے متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

اس سے قبل وزیراعلٰی بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے شہدائے 8 اگست کی پہلی برسی کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ 8 اگست 2016 کو بلوچستان بار کونسل کے صدر ایڈووکیٹ بلال انور کاسی کو قتل کردیا گیا تھا، جن کی میت کے ساتھ بڑی تعداد میں وکلاء سول ہسپتال پہنچے تھے کہ اسی دوران شعبہ حادثات کے بیرونی گیٹ پر خودکش دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں وکلاء سمیت 70 سے زائد افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

جائے وقوع پر موجود صحافی بھی دھماکے کی زد میں آئے، نجی نیوز چینل آج ٹی وی کے کیمرہ مین بھی ہلاک جبکہ ڈان نیوز کے کیمرہ مین 25 سالہ محمود خان شدید زخمی ہوئے جو بعدازاں ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئے تھے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدگی اختیار کرنے والے دہشت گرد گروپ جماعت الاحرار نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا، بعدازاں داعش نے بھی خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

بشکریہ ڈان نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں: