خواتین کے مقابلہ حسن کیخلاف عدالت میں‌ لال مسجد انتظامیہ کی درخواست

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع لال مسجد سے منسلک شہداء فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے صدر طارق اسد نے ‘مِس ویٹ پاکستان’ مقابلہ حسن کے ساتھ ساتھ دیگر تفریحی ٹی وی پروگراموں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔

ایڈووکیٹ طارق اسد کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن میں سیکریٹری وزیر اطلاعات کو مدعی بنایا گیا۔

ڈان نیوز کو دستیاب پٹیشن کی کاپی کے مطابق، ‘اس پروڈکٹ (ویٹ) کا مقصد خواتین کو مخالف جنس کے لیے پرکشش بنانا ہے، جو بنیادی طور پر شرمناک اور شریعت کے احکامات کے خلاف ہے.’۔

درخواست میں کہا گیا کہ ‘ہم ٹی وی’ پر نشر ہونے والے اس پروگرام کی فاتح خاتون ممکنہ طور پر تعلیمی درسگاہوں کا دورہ کرنے والی ہیں جہاں وہ نوجوان لڑکیوں سے ملاقاتیں کریں گی۔

درخواست گزار نے مزید کہا کہ نجی ٹی وی چینل ’جیو‘ پر چلنے والے موسیقی کے پروگرام پاکستان آئیڈل، وائس آف پاکستان، اردو زبان میں ترجمہ کرکے نشر کی جانے والی ترک فلموں اور نیوز چینلز پر بھارتی فلموں کے قابل اعتراض اشتہاروں پر بھی پابندی لگائی جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی جانے والی اس درخواست میں پاکستانی ٹی وی چینلز پر چلنے والے گانوں، رقص کے مقابلوں اور کسی بھی طرح کے فیشن شوز پر بھی مکمل طور پر پابندی کی استدعا کی گئی۔

درخواست گزار نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ایک سیکولر ادارہ ہے جو پاکستان میں فحاشی کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہا’۔

واضح رہے کہ رواں برس جون میں وفاقی انتظامیہ نے لال مسجد شہدا فاؤنڈیشن کو غیر رجسٹرڈ تنظیم قرار دیتے ہوئے اس کی تمام سیاسی و سماجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی تھی۔

بشکریہ: ڈان نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں: