Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
القادر ٹرسٹ کرپشن کیس , عمران خان کی 2 ہفتوں کیلئے ضمانت منظور | زرائع نیوز

القادر ٹرسٹ کرپشن کیس , عمران خان کی 2 ہفتوں کیلئے ضمانت منظور

اسلام آباد ہائی کورٹ نے القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں عمران خان کی 2 ہفتوں کے لیے ضمانت منظور کر لی۔

عمران خان کے خلاف القادر ٹرسٹ میں مبینہ کرپشن کے کیس کی سماعت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر خصوصی ڈویژن بینچ تشکیل دیا تھا جس نے سماعت کی۔

کیس کی وقفے کے بعد ڈھائی بجے سماعت شروع ہوئی تو عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری اور حفاظتی ضمانت کی درخواست ہے، ہم نے ایک اور درخواست میں انکوائری رپورٹ کی کاپی مانگی ہوئی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ نیب کو انکوائری رپورٹ کی کاپی فراہم کرنے کا حکم دیا جائے، نیب کی انکوائری رپورٹ کا اخبار سے پتہ چلا، انکوائری اگر انویسٹی گیشن میں تبدیل ہو تو صرف اسی صورت وارنٹ جاری ہو سکتے ہیں، وارنٹ کے اجراء کی وجہ بتائی گئی کہ مسلسل نوٹسز کے باوجود پیش نہیں ہوئے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ انویسٹی گیشن اسٹارٹ ہوتے ہی گرفتاری کی کوشش کی گئی، نیب قانون کے مطابق انکوائری رپورٹ فراہم کرنے کا پابند ہے، یہ انکوائری رپورٹ کورٹ آف لاء میں چیلنج کرنے کا حق بھی رکھتا ہوں، اسی وجہ سے نیب پر انکوائری رپورٹ فراہم کرنا لازم ہے، عمران خان کی گرفتاری کے بعد انکوائری رپورٹ فراہم کر دی گئی، میں نے انکوائری رپورٹ نہیں دیکھی کیونکہ عمران خان قید میں تھے، میں نے انکوائری رپورٹ نہیں دیکھی کیونکہ عمران خان قید میں تھے۔

عمران خان کے وکیل نے کہا کہ 28 اپریل کو انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کیا گیا، 2 کال اپ نوٹسز کا جواب بھی جمع کرایا، جواب دیا کہ کال اپ نوٹسز قانون کے مطابق نہیں ہیں، یہ بتانا ضروری ہے کہ متعلقہ شخص کو کس حیثیت میں بلایا گیا ہے؟ بطور گواہ بلایا جا رہا ہے یا بطور ملزم؟ اگر بطور ملزم بلایا جا رہا ہے تو الزامات کی تفصیل دینا ضروری ہے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے سوال کیا کہ آپ کو نوٹس کے ساتھ کوئی سوالنامہ نہیں دیا گیا، کیا آپ نے نیب آفس وزٹ کیا؟

خواجہ حارث نے جواب دیا کہ اس کیس میں کوئی سوالنامہ نہیں دیا گیا، وہ توشہ خانہ کیس الگ ہے، نیب آفس اس لیے وزٹ نہیں کیا۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بیرسٹر جہانگیر جدون نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جو پٹیشن یہاں دائر کی گئی اس کے لیے متبادل فورم موجود ہے، رٹ پٹیشن میں یہ معاملہ ہائی کورٹ لانے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں، آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کیا گیا ہے، جس طرح کے پُر تشدد واقعات ہوئے اس کے بعد فوج کو طلب کیا گیا۔

جسٹس میاں گل حسن نے سوال کیا کہ کیا یہاں مارشل لاء لگ گیا ہے کہ ہم تمام درخواستوں پر سماعت روک دیں؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس معاملے پر عدالت اٹارنی جنرل کو بلا کر بھی سن لے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے عدالت کو بتایا کہ 15 جولائی کو انکوائری شروع ہوئی جس کے بعد کال اپ نوٹس جاری ہوا، عمران خان کبھی بھی انکوائری میں پیش نہیں ہوئے، اس کیس میں ایک بزنس ٹائیکون، زلفی بخاری اور دیگر کو نوٹسز ہوئے، محمد میاں سومرو، فیصل واؤڈا اور دیگر کو بھی نوٹسز ہوئے جنہوں نے انکوائری جوائن کی، شہزاد اکبر کو بھی نوٹس ہوا مگر انہوں نے انکوائری جوائن نہیں کی۔

عدالت نے کیس کے تفتیشی افسر کو روسٹرم پر بلا لیا جن سے جسٹس میاں گل حسن نے سوال کیا کہ عمران خان 2 دن آپ کے پاس تھے آپ نے ان سے کیا تفتیش کی؟

عدالتِ عالیہ نے عمران خان کی 2 ہفتوں کے لیے ضمانت منظور کر لی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے انکوائری رپورٹ فراہم کرنے کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی۔

سماعت مکمل ہونے کے بعد رینجرز نے کورٹ روم کے باہر عمران خان کی حفاظت کے لیے حصار بنا لیا۔