یہ دن دیکھنا تھا تو خالد مقبول کو ممبر شپ نہ دیتا، فاروق ستار

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ معلوم ہوتا یہ دن دیکھنے پڑیں گے تو 1982 میں خالد مقبول صدیقی کو پارٹی کی ممبر شپ نہیں دیتا۔

ڈاکٹر فاروق ستار 45 روز بعد ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد اُس وقت پہنچے جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے پارٹی قیادت کے معاملے میں اُن کے حق میں جزوی فیصلہ دیا اور خالد مقبول صدیقی سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیے۔

ڈاکٹر فاروق ستار اپنی اہلیہ اور دو اراکین اسمبلی کے ساتھ بہادرآباد پہنچے جہاں اُن کا کشور زہرہ نے گلدستہ پیش کر کے استقبال کیا، دو گھنٹے طویل مذاکراتی دو چلا جس میں فی الوقت کوئی بڑی پیشرفت نہ ہوئی البتہ بات چیت کے سلسلے کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں رہنماؤں نے آئندہ ملاقاتوں کو جاری رکھنے کا اعلان کیا اور مختلف امور پر گفتگو بھی کی۔

ایک سوال کے جواب میں خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ عدالتیں جو بھی فیصلہ کریں مگر ہم تنظیمی طور پر ایک دوسرے کو کیا دیکھتے ہیں سب سے اہم بات یہ ہے، فاروق بھائی سے 1982 کی رفاقت ہے کیونکہ جس وقت میں بطور طالب علم پارٹی میں شامل ہوا اُس وقت فاروق ستار یونٹ انچارج تھے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے مائیک اپنی طرف کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا یہ دن بھی دیکھنا ہے تو خالد مقبول صدیقی کو پارٹی کی ممبر شپ کبھی نہ دیتا، یہ جواب سنتے ہی خالد مقبول صدیقی بولے فاروق بھائی ممبر شپ میرے پاس پہلے سے موجود تھی۔

پریس کانفرنس کی اہم بات یہ تھی کہ دونوں گروپوں میں تنازع بننے والی شخصیات عامر خان، کامران ٹیسوری موجود نہ تھے البتہ ڈپٹی کنونیئرز اور بہادرآباد کے ذمہ داران نے ابھی تک واضح نہیں کیا کہ انہوں نے فاروق ستار کو سربراہ تسلیم کیا یا پھر بطور کارکن ہی تصور کررہے ہیں۔

دوسری جانب ذرائع کو یہ بھی اطلاع موصول ہوئی کہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹس کا بھرپور قانونی جواب دینے کی تیاری شروع کردی، اس ضمن کو فروغ نسیم کو عامر خان نے اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: