Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کا سسٹم ختم کرنے میں ناکامی | زرائع نیوز

کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کا سسٹم ختم کرنے میں ناکامی

ڈائریکٹرجنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹئ اسحاق کھوڑو غیرقانونی تعمیرات کا سسٹم ختم کرنے میں ناکام ہوگئے، شہرمیں غیرقانونی تعیمرات میں ملوث افراد کےسامنے گھٹنے ٹیک دیے جس کی وجہ سے شہر میں غیرقانونی تعمیرات میں تیزی سے اضافہ ہوگیا ہے۔

 تفصیلات کے مطابق کراچی میں غیرقانونی تعمیرات کا جنگل بنتاجارہا ہے،  نئے ڈی جی ایس بی سی اے کی جانب سے غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا لیکن بااثر شخصیات کے دباؤ کی وجہ سے کارروائیاں روکنی پڑ گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی ایس بی سی اے نے غیرقانونی تعمیرات کر نے والی مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے جس کی وجہ سے غیرقانونی تعمیرات کرنے والی مافیا کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔

ذرا ئع کا کہنا ہے کہ کراچی کے صرف دو اضلاع شرقی اور وسطی میں ڈھائی ہزار سے زائد غیرقانونی تعمیرات کی جا رہی  ہیں جس کی وجہ سرپرستی مبینہ طور پر ایس بی سی اے افسران کی جانب سے کی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ای سی ایچ  سوسائٹی بلاک دو اورآٹھ میں ڈیڑھ سو سے زائد تعیرات کی جارہی ہے اسی طرح اسکیم تنتیس میں تین سو سے زائد جبکہ ضلع وسطی میں نارتھ ناظم آبا د، نارتھ کراچی ، لیاقت آبا د ،گولی مار، سمیت دیگر علاقوں میں بھر انداز میں غیرقانونی تعمیرات کی جا رہی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی ایس بی سی اے کو تمام غیرقانونی تعمرات کی تفصیلا ت فراہم کر دی گئی ہے لیکن کےاس کے باوجود صرف نمائشی کاروائیاں کی جا رہی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی ایس بی سی اے  مبینہ طور پر سسٹم کے تحت کام کر نے پر مجبور ہو گئے ہیں، دوسری جانب سے ایس بی سی اے میں کمرشل فائلیں جس میں بلند وبانگ عمارتوں کے نقشے کی منظوری پارنی تاریخوں میں کی جا رہی جس میں مبینہ طور پر سابق ڈی جی ایس بی سی اے یاسین شر میں بھی ملوث بتا ئے جا تے ہیں۔