فاروق ستار نے انتہائی اہم فیصلہ کرلیا

کراچی: (ویب ڈیسک) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے سینیٹ میں الیکشن ریفارم بل کے معاملے پر ووٹنگ کے دوران پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے (ن) لیگ کو ووٹ دینے پر سینیٹر میاں عتیق کی بنیادی پارٹی رکنیت ختم کر دی۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹرز کا اجلاس ہوا جس میں میاں عتیق کے معاملے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر میاں عتیق بھی موجود تھے۔

رابطہ کمیٹی نے میاں عتیق سے ووٹ دینے پر وضاحت طلب کی تو انہوں نے کہا کہ مجھے سعد رفیق نے بتایا فاروق ستار سے بات ہوچکی ہےاس لیے اُن کی بات کا اعتبار کر کے ووٹ ڈال دیا۔

سینیٹر نے مؤقف پیش کیا کہ چونکہ پارٹی پالیسی میں آئے روز تبدیلی ہوتی رہتی ہے اس لیے میں نے سوچا کہ شاید حکومت سے بات چیت اور مذاکرات ہوگئے ہوں کیونکہ ہم نے مسلم لیگ ن کے امیدوار کو وزیر اعظم کے لیے ووٹ دیا۔

فاروق ستار نے میاں عتیق پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ جب تمام سینیٹرز ایوان سے اٹھ کر چلے گئے تو آپ نے ووٹ کیوں دیا؟ میاں عتیق بولے کہ غیر حاضر سینیٹرز کے ووٹ بھی کاسٹ کیے گئے۔

اجلاس کے بعد ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کہا کہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر میاں عتیق کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ تین روز قبل سینیٹ میں الیکشن ریفارم بل کے حوالے سے ہونے والی ووٹنگ میں ایم کیو ایم کے سینیٹر کے ووٹ کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے حق میں فیصلہ ہو گیا تھا۔ سینیٹر اعتزاز احسن کی قرارداد کے حق میں 37 جب کہ مخالفت میں 38 ووٹ پڑے تھے۔قبل ازیں سینیٹرز کے اجلاس کے دوران فاروق ستار اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے میاں عتیق سے وضاحت مانگی کہ انہوں نے (ن) لیگ کے حق میں ووٹ کیوں دیا۔ اس پر میاں عتیق نے جواب دیا کہ انہوں نے خواجہ سعد رفیق کے کہنے پر ووٹ دیا کیوں کہ سعد رفیق نے کہا تھا کہ ان کی فاروق ستار سے بات ہو گئی ہے۔میاں عتیق کا جواب سن کر فاروق ستار نے اظہار برہمی کیا اور کہا کہ آپ نے اس معاملے پر پارٹی قیادت سے تصدیق کیوں نہیں کی، ایم کیو ایم پاکستان نے واضح طور پر سینیٹ سے واک آؤٹ کا اعلان کیا تھا تو پھر ووٹ کیوں ڈالا۔ اجلاس کے دوران عامر خان، کشور زہرہ سمیت رابطہ کمیٹی کے دیگر ارکان نے بھی میاں عتیق سے تابڑ توڑ سوالات کیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: