Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ایک دن ، ایک ہی عمارت سےٹکراکرایک ہزار پرندوں کی ہلاکت ! | زرائع نیوز

ایک دن ، ایک ہی عمارت سےٹکراکرایک ہزار پرندوں کی ہلاکت !

شگاگو: امریکی شہر شگاگو میں ایک ہی عمارت سے ٹکرانے سے ایک ہزار پرندوں کی ہلاکت کا واقعہ رپورٹ ہواہے ۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق امدادی رضاکاروں نے شمالی امریکا کے سب سے بڑے کنونشن سینٹر میک کارمک پلیس میں ہلاک ہونے والے پرندوں کو جمع کیا۔

شکاگو برڈ کولیشن مانیٹرس کے ڈائریکٹر اینیٹ پرنس کا کہنا ہے کہ ہمیں پرندوں کی بڑی تعداد ملی ہے، جس میں کچھ مردہ اور زخمی بھی ہیں۔

ایک ہی دن میں ہلاک ہونے والے پرندوں کی یہ سب سے بڑی تعداد تھی۔ یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ عمارت کا شیشہ قدرتی نہیں بلکہ ٹھوس ہوتا ہے، اسی وجہ پرندے یہ سمجھ نہیں پاتے کہ اس پر نظر آنے والے درخت یا آسمان کا عکس حقیقی نہیں ہیں۔اسی طرح پرندے شیشے کے ذریعے آسمان یا انڈور پودوں کو دیکھتے ہیں، تو وہ اس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ نہیں دیکھ سکتے کہ راستے میں ایک رکاوٹ کے طور پرشیشہ بھی موجود ہے۔

یونیورسٹی آف ویسٹرن اونٹاریومیں پرندوں پر تحقیق کرنے والے برینڈن سیموئلز نے کہا کہ متاثرہ پرندوں کی اصل تعداد کچھ دنوں میں معلوم ہوجائےگی ۔امریکن برڈ کنزروینسی میں برائن لینز نے کہا کہ سالانہ ایک ارب پرندے اسی طرح کے تصادم کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ پرندے زیادہ تر ممکنہ طور پر کینیڈا سے جنوبی اور وسطی امریکا کے راستے سے آرہے تھے۔میک کارمک پلیس میں2021 کی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ بڑی عمارتوں میں آدھی لائٹس بند کرنے سے چھ سے گیارہ گنا پرندوں کی ہلاکت کو کم کر سکتے ہیں۔یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ عمارت کا شیشہ قدرتی نہیں بلکہ ٹھوس ہوتا ہے، اسی وجہ پرندے یہ سمجھ نہیں پاتے کہ اس پر نظر آنے والے درخت یا آسمان کا عکس حقیقی نہیں ہیں۔اسی طرح پرندے شیشے کے ذریعے آسمان یا انڈور پودوں کو دیکھتے ہیں، تو وہ اس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ نہیں دیکھ سکتے کہ راستے میں ایک رکاوٹ کے طور پرشیشہ بھی موجود ہے۔