اب سعودی عرب میں‌ خواتین بھی ڈرائیونگ کریں گی، یہ فیصلہ کیوں‌کیا گیا؟‌

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے بادشاہ شاہ سلمان نے ملک میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ اجازت ایک شاہی فرمان کے ذریعے دی گئی ہے جس کے مطابق متعلقہ وزارت اس بارے میں ایک ماہ میں تجاویز دے گی اور یہ حکم 24 جون 2018 تک ہر صورت میں نافذالعمل ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں اور اس معاملے پر اسے عالمی تنقید کا سامنا رہا ہے۔

ملک میں اس پابندی کے خلاف مہم چلانے والی حقوق انسانی کی کارکنوں کو گرفتاری کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق میں شاہی فرمان کے تحت ٹریفک قوانین میں تبدیلیاں کر کے مردوں اور خواتین کے لیے یکساں ڈرائیونگ لائسنز جاری کیے جائیں گے۔

سعودی میڈیا کے مطابق خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز نے خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کی منظوری دی۔

منگل کو شاہی فرمان میں ٹریفک قوانین میں ترمیم کی ہدایت دی گئی۔

یہ حکم سعودی حکومت کی جانب سے خواتین کو ملک کے قومی دن کی تقریبات میں پہلی بار شرکت کی اجازت دینے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔

سعودی حکومت نے دارالحکومت ریاض کے کنگ فہد انٹرنیشنل سٹیڈیم ہونے والی تقریب میں خواتین کو فیملی سیکشن میں بیٹھنے کی جگہ دی تھی تاہم اس اقدام پر اسے مقامی سطح پر سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے سعودی حکومت کی جانب سے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ صحیح سمت کی جانب صحیح قدم ہے۔‘

سعودی عرب میں 1990 سے خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی عائد ہے۔ یہ پابندی قانون کا حصّہ نہیں تھی تاہم معاشرتی اور تہذیبی طور پر سعودی عرب میں اس عمل کی اجازت نہیں ہے۔

کافی عرصے سے سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن خواتین کی ڈرائیونگ کی اجازت کے لیے سرگرم ہیں۔

کئی لگاتار مہمات کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا تھا اب معاشرے کا چلن تبدیل ہو رہا ہے اور اب مردوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد اس پابندی کے خاتمے کے حق میں ہے۔

سعودی عرب کے شہزادے ولید بن طلال نے بھی گذشتہ برس کے آخر میں ملک میں خواتین پر گاڑی چلانے کی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ارب پتی شہزادہ ولید بن طلال نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا تھا کہ خواتین پر ڈرائیونگ کی پابندی ختم کرنا نہ صرف ملکی معیشت بلکہ خواتین کے حقوق کے لیے بھی ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: