اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی، پی ٹی آئی میں‌ دراڑیں، لینے کے دینے پڑ گئے

اسلام آباد: اپوزیشن لیڈری کی تبدیلی سے قبل تحریک انصاف میں گروہ بندی ہوگئی، مخالف گروپ شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے پر ناخوش ہے۔

چند پارٹی عہدیداران کی جانب سے مخالفت اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے انکار کے بعد شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کے لیے جاری پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا۔

اس حوالے سے میڈیا میں جاری خبروں کی تردید کرتے ہوئے پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ پارٹی نے اب تک قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد نہیں کیا۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کا یہ مؤقف پارٹی سربراہ عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے بعد سامنے آیا۔

پاکستانی میڈیا میں زیرِگردش خبروں کے مطابق گذشتہ ہفتے تحریک انصاف نے شاہ محمود قریشی کو ایوان زیریں میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سید خورشید شاہ کی جگہ اپوزیشن لیڈر بنانے کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی میں اراکین اسمبلی کا ایسا گروپ موجود ہے جو عمران خان کو شاہ محمود قریشی کی جگہ اپوزیشن لیڈر دیکھنا چاہتا ہے۔

پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ (27 ستمبر) کو ہونے والے پارٹی اجلاس میں شاہ محمود قریشی اور پارٹی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی غیر موجودگی کی وجہ سے یہ مسئلہ زیرِ بحث نہیں آیا۔

ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے پارلیمانی رہنماؤں نے اجلاس کے دوران عمران خان کو اپوزیشن لیڈر بنانے کی تجویز پیش کی۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو بطور اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کی مہم کا آغاز مردان سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کیا جب انہوں نے عمران خان کے ساتھ اپنی تصویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شیئر کی اور چیئرمین پی ٹی آئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے اپنے حامیوں سے رائے دینے کا کہا۔

اپنے پیغام میں رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ اگر ایوان میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو عمران خان اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم ہوں گے۔

رکن قومی اسمبلی اور تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ پارٹی میں ابھی تک عمران خان کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر اتفاق نہیں ہوا ہے۔

تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام اپوزیش جماعتوں سے مثبت جواب ملتے ہی تحریک انصاف اپوزیشن لیڈر نامزد کر دے گی۔

کراچی میں متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) سے مشاورت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے انہیں تمام اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے لیے کہا تھا، تاہم تحریک انصاف تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعد ہی اپوزیشن لیڈر نامزد کرے گی۔

انہوں نے کسی بھی پارٹی عہدیدار کا نام لیے بغیر کہا کہ ان کی جماعت میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کم عقل ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عاشورہ کے بعد مسلم لیگ (ق) کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ان کی ملاقات متوقع ہے، جس کے دوران تمام امور خوش اسلوبی کے ساتھ طے کر لیے جائیں گے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے انہیں اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کی تردید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متحدہ نے ایوان میں پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اب تک اس معاملے کو حتمی شکل نہیں دی گئی جبکہ آخری فیصلہ عمران خان کریں گے۔

پی ٹی آئی کے انفارمیشن سیکریٹری شفقت محمود نے بھی شاہ محمود قریشی کے موقف کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ذرائع ابلاغ نے پارٹی کی جانب سے شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کی خبر کو غلط رپورٹ کیا، کیونکہ تحریک انصاف کی جانب سے اب تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کو اپوزیشن لیڈر تبدیل کرنے کا حق حاصل ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت پہلے ایم کیو ایم سے پارٹی سربراہ عمران خان کے متحدہ مخالف ریمارکس پر معافی مانگے۔

ایوان میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد 32 ہے جبکہ انہیں جماعت اسلامی کے 4، عوامی مسلم لیگ کے ایک اور جمشید دستی کی حمایت حاصل ہے۔

اس کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے پاس 47 اراکین موجود ہیں تاہم ان کے پاس عوامی نیشنل پارٹی کے 2 جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی اور قومی وطن پارٹی کے ایک ایک رکن اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔

اگر تحریک انصاف اور متحدہ قومی مومنٹ کا اتحاد قائم ہو جاتا ہے تو وہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے نئے چیئرمین کی تقرری میں اہم کردار ادا کریں گے۔

خیال رہے کہ نیب کے موجودہ چیئر مین قمر زمان چوہدری اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد آئندہ ماہ 10 اکتوبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔


یہ خبر 28 ستمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

اپنا تبصرہ بھیجیں: