قائد آباد تھانے میں تعینات سب انسپکٹرکےدوران ڈیوٹی انتقال کودوماہ گذرنے کےبعد اہل خانہ معاشی بحران میں مبتلاہوگئے ہیں تاہم نہ تنخواہ دی جارہی ہے نہ جی پی فنڈ کے لئے کاغذی کارروائی کی گئی.
عدت مکمل کرنے والی سب انسپکٹرسید شکیب حسیب شاہ مرحوم کی بیوہ نے بتایا کہ میرا شوہرانیس سوبانوے میں کانسٹیبل بھرتی ہواتھا، زندگی کے تیس سال محکمہ پولیس کودdiy مگر پانچ بیٹیوں اورچاربیٹوں پر مشتمل کنبے کومحکمہ پولیس نے مکمل نظراندازکرکے مسائل میں مبتلاکردیا ہے۔
قائد آباد تھانے میں تعینات سب انسپکٹرکا انتقال اٹھائیس اگست کواس وقت ہواتھا جب وہ کورٹ جارہاتھا تاہم اگست اورستمبرکی تنخواہ تاحال نہیں ملی،جی پی فنڈ کے لئے بھی کسی نےکوئی رہنمائی نہیں کی،ساری زندگی گھرکی چاردیواری میں گذاری اب پتہ نہیں کون ،کون سے دفتروں کے چکرکاٹنا پڑیں گے؟
پولیس افسرکی بیوہ نے آئی جی پولیس سندھ راجہ رفعت مختارسے اپیل کی ہے کہ تنخواہ جاری کرکے معاشی پریشانیوں سے نکالاجائے،جی پی فنڈ دیاجائے اوربڑےبیٹے کوسن کوٹہ پرمحکمہ پولیس میں بھرتی کیاجائے۔